رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
دھوئے گئے ہم ایسے ۱کہ بس پاک ہو گئے
صرفِ بہائے مے ہوئے آلاتِ مے کشی
تھے یہ ہی دو حساب، سو یوں پاک ہو گئے
رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تم۲
بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثر
پردے میں گُل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہلِ شوق کا
آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
کرنے گئے تھے اس سے تغافُل کا ہم گِلہ
کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
۳پوچھے ہے کیا معاشِ جگر تُفتگانِ عشق
جوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے
۴اس رنگ سے اٹھائی کل اُس نے اسدؔ کی نعش
دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
۱نسخۂ رضا میں ”اتنے“۔ شاید کتابت کی غلطی ہے۔ —جویریہ مسعود
۲ایک آدھ نسخے میں ”ہم“ بھی چھپا ہے۔ —حامد علی خاں
۳نسخۂ رضا سے مزید۔ نسخۂ حمیدیہ میں یہ شعر درج نہیں۔ —جویریہ مسعود
۴نسخۂ مہرؔ میں یہ مصرع یوں درج ہے: ؏ اس رنگ سے کل اُس نے اٹھائی اسدؔ کی نعش۔
مقابلے سے معلوم ہوا کہ دوسرے کسی، زیرِ نظر، قدیم و جدید نسخے میں یہ مصرع یوں درج نہیں۔
لہٰذا اسے سہوِ کاتب سمجھنا چاہیے۔ ایک آدھ نسخے میں ”نعش“ کی جگہ ”لاش“ بھی چھپا ہے۔ —حامد علی خاں