نظر بہ نقصِ گدایاں، کمالِ بے ادبی ہے
نظر بہ نقصِ گدایاں، کمالِ بے ادبی ہے
کہ خارِ خشک کو بھی دعویٔ چمن نسبی ہے
ہوا وصال سے شوقِ دلِ حریص زیادہ
لبِ قدح پہ، کفِ بادہ، جوشِ تشنہ لبی ہے
خوشا! وہ دل کہ سراپا طلسمِ بے خبری ہو
جنونِ یاس و الم، رزقِ مدعا طلبی ہے
۱تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے ۲پوچھو
حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
دلا یہ درد و الم بھی تو مُغتَنَم ہے کہ آخر
نہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے
چمن میں کس کی، یہ برہم ہوئی ہے، بزمِ تماشا؟
کہ برگ برگِ سمن، شیشہ ریزۂ حلبی ہے
امامِ ظاہر و باطن، امیرِ صورت و معنی
علی، ولی، اسد اللّٰہ، جانشینِ نبیؐ ہے
۱متداول دیوان میں صرف یہ دو اشعار ہیں۔
باقی اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ —جویریہ مسعود
۲نسخۂ مہر میں ”کر“۔ —جویریہ مسعود