بس کہ ہیں بد مستِ بشکن بشکنِ مے خانہ ہم

بس کہ ہیں بد مستِ بشکن بشکنِ مے خانہ ہم موئے شیشہ کو سمجھتے ہیں خطِ پیمانہ ہم ؂۱نقش بندِ خاک ہے موج از فروغِ ماہتاب سیل سے فرشِ کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم بس کہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تارِ شعاع پنجۂ خُرشید کو سمجھے ہیں دستِ شانہ ہم ہے فروغِ ماہ سے ہر موج، اک تصویرِ خاک سیل سے، فرشِ کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم مشقِ از خود رفتگی سے ہیں بہ گل زارِ خیال آشنا تعبیر خوابِ سبزۂ بیگانہ ہم فرطِ بے خوابی سے ہیں شب ہائے ہجرِ یار میں جوں زبانِ شمع، داغِ گرمیٔ افسانہ ہم جانتے ہیں، جوششِ سودائے زلفِ یار میں سنبلِ بالیدہ کو موئے سرِ دیوانہ ہم بس کہ وہ چشم و چراغِ محفلِ اغیار ہے چپکے چپکے جلتے ہیں، جوں شمعِ ماتم خانہ ہم شامِ غم میں سوزِ عشقِ آتشِ رخسار سے پر فشانِ سوختن ہیں، صورتِ پروانہ ہم ؂۲غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس برق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال ہیں ورق گردانیٔ نیرنگِ یک بت خانہ ہم با وجودِ یک جہاں ہنگامہ پیرا ہی نہیں ہیں ”چراغانِ شبستانِ دلِ پروانہ“ ہم ضعف سے ہے، نے قناعت سے یہ ترکِ جستجو ہیں ”وبالِ تکیہ گاہِ ہِمّتِ مردانہ“ ہم ؂۳دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنّائیں اسدؔ جانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم ؂۱نسخۂ حمید سے مزید شعر۔ ملاحظہ ہو حاشیہ از نسخۂ حمیدیہ: اس مصرع پر ”لا لا“ لکھا ہے اور حاشیے موٹے قلم سے شکستہ خط میں اس کے بجائے مصرعِ ذیل تحریر کیا ہے: ؏ ہے فروغِ ماہ سے ہر موج یک تصویرِ خاک —جویریہ مسعود ؂۲متداول دیوانِ غالبؔ میں یہ غزل شعرِ ہذا تا آخر ہے۔ مطلع اور اس سے پہلے کے اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ —جویریہ مسعود ؂۳نسخۂ حمیدیہ میں یہ مصرع یوں ہے: ؏ شامِ غم میں سوزِ عشقِ شمع رویاں سے اسدؔ۔ ملاحظہ ہو نسخۂ حمیدیہ کا حاشیہ: اس مصرع کا آخری حصہ بعد میں ”سوزِ عشقِ آتشِ رخسار سے“ بدلا گیا ہے۔ حاشیے میں موٹے قلم سے شکستہ خط میں یہ مقطع لکھا ہے: دائم الحبس اس میں ہے لاکھوں تمنائیں اسدؔ جانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم —جویریہ مسعود
مرزا اسد اللہ خان غالب
مرزا اسد اللہ خان غالب

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ اردو زبان کے نامور ترین شعرا میں سرفہرست ہیں۔ آپ 27 دسمبر 1796 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ 15 فروری 1869 میں غالب اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انھوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انھوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔ غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انھیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔ بحیثیتِ شاعر وہ اتنے مقبول ہیں کہ اُن کے اشعار زبان زدِ خلائق ہیں۔ اور بحیثیتِ نثر نگار بھی وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے ان کا پایہ سب سے بلند ہے کہ ایسے زمانے میں جب رنگینی و قافیہ پیمائی، انشا پردازی کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی ، انھوں نے نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکار، حسین و رنگین۔ یہی نمونۂ نثر آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ اردو میں غالب پہلے شخص ہیں جو اپنے خطوظ میں اپنی شخصیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر غالب کی شاعری سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ حالی نے انھیں حیوان ظریف کیوں کہا ہے۔ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب کی طبیعت میں ظرافت تھی۔ غالب کے کلام سے غالب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس غالب کی ہے جو خیال کی دنیا میں رہتا ہے۔ لیکن خطوط میں وہ غالب ہمیں ملتا ہے جس کے قدم زمین پر جمے ہیں۔ جس میں زندگی بسر کرنے کا ولولہ ملتا ہے۔ جو اپنے نام سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتا۔ غالب کی زندگی سراپا حرکت و عمل ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک بے تکلفی ،بے ساختگی اور حقیقت پسندی کی موجودگی اس کے خطوط سے چھلکی پڑتی ہے۔ اخفائے ذات اور پاس حجاب کا وہ کم از کم خطوط میں قائل نظر نہیں آتا۔ غالب نے اپنے مکاتیب میں اپنے بارے میں اتنا کچھ لکھ دیا ہے اور اس انداز میں لکھا ہے کہ اگر اس مواد کو سلیقے سے ترتیب دیا جائے تو اس سے غالب کی ایک آپ بیتی تیار ہوجاتی ہے۔ اس آب بیتی میں جیتا جاگتا غالب اپنے غموں اور خوشیوں، اپنی آرزوں اور خواہشوں، اپنی محرومیوں اور شکستوں اپنی احتیاجوں اور ضرورتوں، اپنی شوخیوں، اپنی بذلہ سنجیوں کے ساتھ زندگی سے ہر صورت نباہ کرتا ہوا ملے گا۔ شبلی نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ، ” اردو انشا پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید مرحوم تھے اس کا سنگِ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔“

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR