آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک

آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک؂۱ کون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ دیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک عاشقی صبر طلب اور تمنّا بے تاب دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے، لیکن خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک پرتوِ خُور سے، ہے شبنم کو فنا کی تعلیم میں بھی ہوں، ایک عنایت کی نظر ہونے تک یک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل! گرمیٔ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تک تا قیامت شبِ فرقت میں گزر جائے گی عمر سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں ؂۲سحر ہونے تک غمِ ہستی کا، اسدؔ! کس سے ہو جُز مرگ، علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک ؂۱اکثر قدیم نسخوں میں ”ہوتے تک“ ردیف ہے۔ نسخۂ نظامی میں بھی لیکن کیونکہ نسخۂ حمیدیہ میں مروج قرأت ”ہونے تک“ ہی دی گئی ہے اس لیےاسی کو قابلِ ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ —جویریہ مسعود مزید: مالک رام صاحب نے لکھا ہے کہ ”غالبؔ کی زندگی میں دیوان کے جتنے ایڈیشن شائع ہوئے، اُن میں ردیف ’ہوتے تک‘ ہے۔“ راقم الحروف کے مشاہدے کی حد تک بھی مالک رام صاحب کی اس قول کی تائید ہوتی ہے مگر مولانا غلام رسول مہرؔ نے ”ہونے تک“ کی ردیف کی حق میں ایک نیم مشروط سی دلیل پیش کی ہے حالانکہ سہوِ کتابت کہیں بھی خارج از امکان نہیں۔ البتہ مالک رام صاحب نے قدیم نسخوں میں رامپور کے نسخۂ حمیدیہ کا ذکر نہیں کیا جس میں ردیف ”ہونے تک“ درج ہے۔ راقم الحروف کی رائے میں یہ بھی سہوِ کتابت ہے یا تحریف، کیونکہ آج کل بیشتر اہلِ ذوق ”ہونے تک“ کو صوتی لحاظ سے پسندیدہ سمجھتے ہیں۔ مگر اپنی پسند غالبؔ کے کلام کو عمداً بدل ڈالنے کا حق نہیں دیتی۔ مہر صاحب نے تحریر فرمایا ہے: ”عرشی صاحب نے اب بھی اِس کی ردیف ’ہونے تک‘ ہی رکھی ہے۔“ عرشی کا جو نسخہ راقم کی نظر سے گزرا ہے، اُس میں مولانا کے مشاہدے کے برعکس اس غزل کی ردیف ”ہوتے تک“ ہی ملتی ہے۔ بہرحال ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ غالبؔ نے کیا کہا تھا۔ —حامد علی خاں ؂۲نسخۂ مبارک علی میں الفاظ ہیں: ”ہم پہ یہ بھاری ہیں“ —اعجاز عبید
مرزا اسد اللہ خان غالب
مرزا اسد اللہ خان غالب

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ اردو زبان کے نامور ترین شعرا میں سرفہرست ہیں۔ آپ 27 دسمبر 1796 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ 15 فروری 1869 میں غالب اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انھوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انھوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔ غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انھیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔ بحیثیتِ شاعر وہ اتنے مقبول ہیں کہ اُن کے اشعار زبان زدِ خلائق ہیں۔ اور بحیثیتِ نثر نگار بھی وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے ان کا پایہ سب سے بلند ہے کہ ایسے زمانے میں جب رنگینی و قافیہ پیمائی، انشا پردازی کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی ، انھوں نے نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکار، حسین و رنگین۔ یہی نمونۂ نثر آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ اردو میں غالب پہلے شخص ہیں جو اپنے خطوظ میں اپنی شخصیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر غالب کی شاعری سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ حالی نے انھیں حیوان ظریف کیوں کہا ہے۔ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب کی طبیعت میں ظرافت تھی۔ غالب کے کلام سے غالب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس غالب کی ہے جو خیال کی دنیا میں رہتا ہے۔ لیکن خطوط میں وہ غالب ہمیں ملتا ہے جس کے قدم زمین پر جمے ہیں۔ جس میں زندگی بسر کرنے کا ولولہ ملتا ہے۔ جو اپنے نام سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتا۔ غالب کی زندگی سراپا حرکت و عمل ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک بے تکلفی ،بے ساختگی اور حقیقت پسندی کی موجودگی اس کے خطوط سے چھلکی پڑتی ہے۔ اخفائے ذات اور پاس حجاب کا وہ کم از کم خطوط میں قائل نظر نہیں آتا۔ غالب نے اپنے مکاتیب میں اپنے بارے میں اتنا کچھ لکھ دیا ہے اور اس انداز میں لکھا ہے کہ اگر اس مواد کو سلیقے سے ترتیب دیا جائے تو اس سے غالب کی ایک آپ بیتی تیار ہوجاتی ہے۔ اس آب بیتی میں جیتا جاگتا غالب اپنے غموں اور خوشیوں، اپنی آرزوں اور خواہشوں، اپنی محرومیوں اور شکستوں اپنی احتیاجوں اور ضرورتوں، اپنی شوخیوں، اپنی بذلہ سنجیوں کے ساتھ زندگی سے ہر صورت نباہ کرتا ہوا ملے گا۔ شبلی نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ، ” اردو انشا پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید مرحوم تھے اس کا سنگِ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔“

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR