لو ہم مریضِ عشق کے بِیماردار ۱ہیں
لو ہم مریضِ عشق کے بِیماردار ۱ہیں
اچھّا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج!
۱نئے مروجہ نسخوں میں یہاں ”بِیماردار“ کی جگہ عموماً ”تِیماردار“ چھپا ہے،
مگر قدیم نسخوں میں یہاں لفظِ ”بیماردار“ ہی ملتا ہے جو کم از کم غالبؔ کے عہد میں
اِس مفہوم کے لیے زیادہ موزوں تھا۔ —حامد علی خاں