جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشت

جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشت یک دست جہاں مجھ سے پھرا ہے، مگر انگشت الفتِ مژگاں میں جو انگشت نما ہوں لگتی ہے مجھے تیر کے مانند، ہر انگشت ہر غنچۂ گل صورتِ یک قطرۂ خوں ہے دیکھا ہے کسو کا جو حنا بستہ، سر انگشت گرمی ہے زباں کی سببِ سوختنِ جاں ہر شمع شہادت کو ہے یاں سر بسر انگشت خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی جوں ماہیٔ بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا رازِ دلِ صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت بس رتبے میں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل آتی نہیں پنجے میں بس اس کے نظر انگشت ؂۱افسوس کہ دنداں ؂۲کا کیا رزق فلک نے جن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہر انگشت کافی ہے نشانی تِری ؂۳، چھلّے کا نہ دینا خالی مجھے دِکھلا کے بہ وقتِ سفر انگشت لکھتا ہوں اسدؔ سوزشِ دل سے سخنِ گرم تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت ؂۱مروجہ دیوان میں یہ آخری تین اشعار بطور غزل درج ہیں۔ —جویریہ مسعود ؂۲نسخۂ نظامی میں اگرچہ ”دِیداں“ ہے لیکن معانی کے لحاظ سے ”دنداں“ مناسب ہے۔ ”دِیداں“ سہوِ کتابت ممکن ہے۔ —اعجاز عبید ”دِیداں“ ”دودہ“ کا جمع ہے، اس سے مراد کیڑے ہیں۔ تب اس کا مطلب بنتا ہے کہ انگلیوں کو قبر کی کیڑوں کا خوراک بنا دیا۔ نسخۂ مہر اور نسخۂ علامہ آسی میں لفظ ”دِیداں“ ہی آیا ہے۔ ہاں، البتہ نسخۂ حمیدیہ (شائع کردہ مجلسِ ترقی ادب لاہور، ۱۹۸۳)میں لفظ ”دنداں“ آیا ہے۔ —جویریہ مسعود مزید: نسخۂ نظامی اور بعض دوسرے نسخوں میں ”دنداں“ کے بجائے ”دِیداں“ چھپا ہے۔ ”دُودہ“ عربی میں کیڑے کو کہتے ہیں۔ اِس کی جمع ”دود“ ہے اور جمع الجمع ”دِیدان“۔ یہ بات خلاف قیاس معلوم ہوتی ہے کہ غالبؔ نے ”دِیداں“ لکھا ہو۔ اس میں معنوی سقم یہ ہے کہ قبر میں پورا جسم ہی کیڑوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ انگلی کی کوئی تخصیص نہیں، نہ خاص طور پر انگلی کے گوشت سے کیڑوں کی زیادہ رغبت کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ یہ کسی مرے ہوئے محبوب کا ماتم بھی نہیں ہے، بلکہ زمانے کی ناقدری کا ماتم ہے کہ جو انگلی عقدِ گہر کے قابل تھی، وہ حسرت و افسوس کے عالَم میں دانتوں میں دبی ہے۔ خوبصورت دانتوں کو موتیوں کی لڑی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اِس لیے موتی کے زیور کی رعایت ملحوظ رکھی گئی۔ کیڑوں کو موتیوں سے تشبیہ دینا مذاقِ سلیم کو مکروہ معلوم ہوتا ہے۔ —حامد علی خاں ؂۳بعض نسخوں میں یہاں ”تِری“ اور بعض میں ”تِرا“ چھپا ہے۔ متن میں ”تِری“ کو ترجیح دی گئی ہے۔ اِس صورت میں علامتِ وقف ”تِری“ کے بعد ہے۔ دوسری صورت میں علامتِ وقف ”نشانی“ کے بعد ہونی چاہیے یعنی ؏ کافی ہے نشانی، تِرا چھلے کا نہ دینا۔ متن کے اندراج کا مفہوم یہ ہے کہ تیری یہی نشانی میرے لیے کافی ہے کہ رخصت کے وقت جب میں نے تجھ سے نشانی کا چھلّا مانگا تو تُو نے مجھے ایک ادائے خاص سے ٹھینگا دکھا دیا۔ نسخۂ نظامی میں بھی اِس متن کے مطابق ”تِری“ ہی چھپا ہے۔ —حامد علی خاں
مرزا اسد اللہ خان غالب
مرزا اسد اللہ خان غالب

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ اردو زبان کے نامور ترین شعرا میں سرفہرست ہیں۔ آپ 27 دسمبر 1796 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ 15 فروری 1869 میں غالب اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انھوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انھوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔ غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انھیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔ بحیثیتِ شاعر وہ اتنے مقبول ہیں کہ اُن کے اشعار زبان زدِ خلائق ہیں۔ اور بحیثیتِ نثر نگار بھی وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے ان کا پایہ سب سے بلند ہے کہ ایسے زمانے میں جب رنگینی و قافیہ پیمائی، انشا پردازی کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی ، انھوں نے نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکار، حسین و رنگین۔ یہی نمونۂ نثر آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ اردو میں غالب پہلے شخص ہیں جو اپنے خطوظ میں اپنی شخصیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر غالب کی شاعری سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ حالی نے انھیں حیوان ظریف کیوں کہا ہے۔ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب کی طبیعت میں ظرافت تھی۔ غالب کے کلام سے غالب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس غالب کی ہے جو خیال کی دنیا میں رہتا ہے۔ لیکن خطوط میں وہ غالب ہمیں ملتا ہے جس کے قدم زمین پر جمے ہیں۔ جس میں زندگی بسر کرنے کا ولولہ ملتا ہے۔ جو اپنے نام سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتا۔ غالب کی زندگی سراپا حرکت و عمل ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک بے تکلفی ،بے ساختگی اور حقیقت پسندی کی موجودگی اس کے خطوط سے چھلکی پڑتی ہے۔ اخفائے ذات اور پاس حجاب کا وہ کم از کم خطوط میں قائل نظر نہیں آتا۔ غالب نے اپنے مکاتیب میں اپنے بارے میں اتنا کچھ لکھ دیا ہے اور اس انداز میں لکھا ہے کہ اگر اس مواد کو سلیقے سے ترتیب دیا جائے تو اس سے غالب کی ایک آپ بیتی تیار ہوجاتی ہے۔ اس آب بیتی میں جیتا جاگتا غالب اپنے غموں اور خوشیوں، اپنی آرزوں اور خواہشوں، اپنی محرومیوں اور شکستوں اپنی احتیاجوں اور ضرورتوں، اپنی شوخیوں، اپنی بذلہ سنجیوں کے ساتھ زندگی سے ہر صورت نباہ کرتا ہوا ملے گا۔ شبلی نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ، ” اردو انشا پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید مرحوم تھے اس کا سنگِ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔“

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR