Skip to content
بشیر بدر بشیر بدر

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقیں کر لیا میں نے پھولوں میں چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR