جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو


جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

اب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو

پھولوں سے ہوا بھی کبھی گھبرائی ہے دیکھو

غنچوں سے بھی شبنم کبھی کترائی ہے دیکھو

اب ذوق طلب وجہ جنوں ٹھیر گیا ہے

اور عرض وفا باعث رسوائی ہے دیکھو

غم اپنے ہی اشکوں کا خریدار ہوا ہے

دل اپنی ہی حالت کا تماشائی ہے دیکھو

زبان اور مصنوعی ذہانت کی روشنی سے مستفید ہوں

طلبہ، اساتذہ، محققین ،اور مختلف شعبہ جات و صنعتوں سے وابستہ افراد کے لیے ایک انقلابی اقدام۔ ۔

لغات

مختلف پاکستانی اور بین الاقوامی لغات کے ذریعے علمی و تحقیقی عمل کو آسان بنائیں۔

محظوظ ہوں

اِملا شناس

اردو اور مختلف عالمی و پاکستانی زبانوں میں املا کی اغلاط کی نشاندہی اور تصحیح کیجیے۔

ابھی آزمائیں

حرف شناس

جدید ٹیکنالوجی (حرف شناس) کے ذریعے تصاویر کو قابلِ ترمیم متن میں تبدیل کیجیے۔

استعمال کریں