Skip to content
صبا اکبر آبادی صبا اکبر آبادی

اشک باری نہیں فرقت میں شررباری ہے

اشک باری نہیں فرقت میں شررباری ہے آنکھ میں خون کا قطرہ ہے کہ چنگاری ہے ہر نفس زیست گزر جانے کا غم طاری ہے موت کا خوف بھی اک روح کی بیماری ہے باوجودیکہ محبت کوئی زنجیر نہیں پھر بھی دل کو مرے احساس گرفتاری ہے کچھ اس انداز سے اس نے غم فرقت بخشا جیسے یہ بھی کوئی انعام وفاداری ہے غم خاموش کو بے وجہ تسلی دینا دل نوازی کی یہ صورت بھی دل آزاری ہے روز حالات بدلتے ہیں بشرط توفیق زیست مجموعۂ آسانی و دشواری ہے جاگنا عشق میں ہر ایک کی تقدیر نہیں نیند قربان ہو جس پر یہ وہ بیداری ہے کی مرے ہاتھ سے یوں نذر بہار اس نے قبول جیسے یہ پھول نہیں ہے کوئی چنگاری ہے اک تغافل سے ہوا عشق کا دل کو احساس اس کی غفلت کا نتیجہ مری ہشیاری ہے یوں بھی آرائش پیہم میں الجھتا ہے کوئی یہ خود آرائی ہے دیکھو کہ خود آزاری ہے ماتم عشق سے فرصت نہیں ملتی ہے صباؔ روز و شب اپنی امیدوں کو عزا داری ہے
صبا اکبر آبادی

صبا اکبر آبادی

View profile

صبا اکبرآبادی 14 اگست، 1908ء کو آگرہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام خواجہ محمد امیر تھا۔ صبا اکبر آبادی کی شاعری کا آغاز 1920ء سے ہوا۔ شاعری میں ان کے استاد خادم علی خاں اخضر اکبر آبادی تھے۔ 1927ء میں وہ شاہ اکبر داناپوری کے صاحبزادے شاہ محسن داناپوری کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور اسی وسیلے سے انھیں تصوف کی دنیا سے شناسائی ہوئی۔ 1928ء میں انھوں نے ایک ادبی ماہنامہ آزاد نکالا۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے رعنا اکبر آبادی کے رسالے مشورہ کی ادارت بھی سنبھالی۔ تقسیم ہند کے بعد انھوں نے حیدرآباد (سندھ) اور پھر کراچی میں سکونت اختیار کی اور بہت جلد یہاں کی ادبی فضا کا ایک اہم حصہ بن گئے۔ انھوں نے مختلف النوع ملازمتیں بھی کیں اور تقریباً ایک سال محترمہ فاطمہ جناح کے پرائیویٹ سیکریٹری بھی رہے۔ صبا اکبر آبادی کے شعری مجموعوں میں اوراق گل، سخن ناشنیدہ، ذکر و فکر، چراغ بہار، خونناب، حرز جاں، ثبات اور دست دعا کے نام شامل ہیں اس کے علاوہ ان کے مرثیوں کے تین مجموعے سربکف، شہادت اور قرطاس الم کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے عمر خیام، غالب، حافظ شیرازی اور امیر خسرو کے منتخب فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ کیا جن میں سے عمر خیام اور غالب کے تراجم اشاعت پزیر ہو چکے ہیں۔ ان کی ملی شاعری کا مجموعہ زمزمۂ پاکستان قیام پاکستان سے پہلے شائع ہوا تھا۔ انھوں نے ایک ناول بھی تحریر کیا تھا جو زندہ لاش کے نام سے اشاعت پزیر ہوا تھا۔ صبا اکبرآبادی 29 اکتوبر، 1991ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پاگئے۔ انہیں کراچی میں سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR