Skip to content
صبا اکبر آبادی صبا اکبر آبادی

اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کم

اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کم اور یہاں مرنے کی فرصت کم سے کم سہ سکے درد محبت کم سے کم دل میں اتنی تو ہو طاقت کم سے کم اس کی یادوں سے کہاں ہے دشمنی شمع جلتی شام فرقت کم سے کم اس کے ملنے سے نہ ہوتی روشنی گھٹ تو جاتی غم کی ظلمت کم سے کم دیکھنے سے ان کے یہ حاصل ہوا ہو گئی اپنی زیارت کم سے کم اس کے خط میں اور سب کچھ تھا مگر صرف مطلب کی عبارت کم سے کم درد دینے کے وہاں ساماں بہت اور تڑپنے کی اجازت کم سے کم کیوں غم دوراں زیادہ مل گیا تھی ہمیں جس کی ضرورت کم سے کم خیر تم سے دوستی مشکل سہی رہنے دو صاحب سلامت کم سے کم دیکھ کر ان کو یہ اندازہ ہوا ہوگی ایسی ہی قیامت کم سے کم دولت غم کی فراوانی سہی دامن دل میں ہے وسعت کم سے کم غم نہیں جو چند یادیں ساتھ تھیں کر تو لی دل کی حفاظت کم سے کم سینہ چاکی عمر بھر کی ہے صباؔ زخم سلنے کی تھی مدت کم سے کم
صبا اکبر آبادی

صبا اکبر آبادی

View profile

صبا اکبرآبادی 14 اگست، 1908ء کو آگرہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام خواجہ محمد امیر تھا۔ صبا اکبر آبادی کی شاعری کا آغاز 1920ء سے ہوا۔ شاعری میں ان کے استاد خادم علی خاں اخضر اکبر آبادی تھے۔ 1927ء میں وہ شاہ اکبر داناپوری کے صاحبزادے شاہ محسن داناپوری کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور اسی وسیلے سے انھیں تصوف کی دنیا سے شناسائی ہوئی۔ 1928ء میں انھوں نے ایک ادبی ماہنامہ آزاد نکالا۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے رعنا اکبر آبادی کے رسالے مشورہ کی ادارت بھی سنبھالی۔ تقسیم ہند کے بعد انھوں نے حیدرآباد (سندھ) اور پھر کراچی میں سکونت اختیار کی اور بہت جلد یہاں کی ادبی فضا کا ایک اہم حصہ بن گئے۔ انھوں نے مختلف النوع ملازمتیں بھی کیں اور تقریباً ایک سال محترمہ فاطمہ جناح کے پرائیویٹ سیکریٹری بھی رہے۔ صبا اکبر آبادی کے شعری مجموعوں میں اوراق گل، سخن ناشنیدہ، ذکر و فکر، چراغ بہار، خونناب، حرز جاں، ثبات اور دست دعا کے نام شامل ہیں اس کے علاوہ ان کے مرثیوں کے تین مجموعے سربکف، شہادت اور قرطاس الم کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے عمر خیام، غالب، حافظ شیرازی اور امیر خسرو کے منتخب فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ کیا جن میں سے عمر خیام اور غالب کے تراجم اشاعت پزیر ہو چکے ہیں۔ ان کی ملی شاعری کا مجموعہ زمزمۂ پاکستان قیام پاکستان سے پہلے شائع ہوا تھا۔ انھوں نے ایک ناول بھی تحریر کیا تھا جو زندہ لاش کے نام سے اشاعت پزیر ہوا تھا۔ صبا اکبرآبادی 29 اکتوبر، 1991ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پاگئے۔ انہیں کراچی میں سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR