Skip to content
صبا اکبر آبادی صبا اکبر آبادی

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے روز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں میری شمعوں کو ہواؤں نے بجھایا ہوگا یہ بھی ان کی ہی شرارت ہو ضروری تو نہیں اہل دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گے ہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو نہیں دوستی آپ سے لازم ہے مگر اس کے لئے ساری دنیا سے عداوت ہو ضروری تو نہیں پرسش حال کو تم آؤ گے اس وقت مجھے لب ہلانے کی بھی طاقت ہو ضروری تو نہیں سیکڑوں در ہیں زمانے میں گدائی کے لئے آپ ہی کا در دولت ہو ضروری تو نہیں باہمی ربط میں رنجش بھی مزا دیتی ہے بس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں ظلم کے دور سے اکراہ دلی کافی ہے ایک خوں ریز بغاوت ہو ضروری تو نہیں ایک مصرعہ بھی جو زندہ رہے کافی ہے صباؔ میرے ہر شعر کی شہرت ہو ضروری تو نہیں
صبا اکبر آبادی

صبا اکبر آبادی

View profile

صبا اکبرآبادی 14 اگست، 1908ء کو آگرہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام خواجہ محمد امیر تھا۔ صبا اکبر آبادی کی شاعری کا آغاز 1920ء سے ہوا۔ شاعری میں ان کے استاد خادم علی خاں اخضر اکبر آبادی تھے۔ 1927ء میں وہ شاہ اکبر داناپوری کے صاحبزادے شاہ محسن داناپوری کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور اسی وسیلے سے انھیں تصوف کی دنیا سے شناسائی ہوئی۔ 1928ء میں انھوں نے ایک ادبی ماہنامہ آزاد نکالا۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے رعنا اکبر آبادی کے رسالے مشورہ کی ادارت بھی سنبھالی۔ تقسیم ہند کے بعد انھوں نے حیدرآباد (سندھ) اور پھر کراچی میں سکونت اختیار کی اور بہت جلد یہاں کی ادبی فضا کا ایک اہم حصہ بن گئے۔ انھوں نے مختلف النوع ملازمتیں بھی کیں اور تقریباً ایک سال محترمہ فاطمہ جناح کے پرائیویٹ سیکریٹری بھی رہے۔ صبا اکبر آبادی کے شعری مجموعوں میں اوراق گل، سخن ناشنیدہ، ذکر و فکر، چراغ بہار، خونناب، حرز جاں، ثبات اور دست دعا کے نام شامل ہیں اس کے علاوہ ان کے مرثیوں کے تین مجموعے سربکف، شہادت اور قرطاس الم کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے عمر خیام، غالب، حافظ شیرازی اور امیر خسرو کے منتخب فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ کیا جن میں سے عمر خیام اور غالب کے تراجم اشاعت پزیر ہو چکے ہیں۔ ان کی ملی شاعری کا مجموعہ زمزمۂ پاکستان قیام پاکستان سے پہلے شائع ہوا تھا۔ انھوں نے ایک ناول بھی تحریر کیا تھا جو زندہ لاش کے نام سے اشاعت پزیر ہوا تھا۔ صبا اکبرآبادی 29 اکتوبر، 1991ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پاگئے۔ انہیں کراچی میں سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR