Skip to content
جاذب قریشی جاذب قریشی

جاں سوز غموں کا کہیں اظہار نہیں ہے

جاں سوز غموں کا کہیں اظہار نہیں ہے زنداں میں بھی زنجیر کی جھنکار نہیں ہے ہر شخص کے چہرے پہ ہے کچھ ایسی علامت جیسے وہ کوئی پھول ہے تلوار نہیں ہے سب گہرے سمندر میں کھڑے سوچ رہے ہیں ہم میں کوئی سورج کا پرستار نہیں ہے زخموں کا لہو ہو کہ چراغوں کا اجالا کوئی بھی مرے شہر میں بیدار نہیں ہے میں تجھ سے بچھڑ کر یہی سمجھا ہوں کہ دنیا دیوار تو ہے سایۂ دیوار نہیں ہے خوش رنگ زلیخاؤں کے بازار میں جاذبؔ کوئی غم یوسف کا خریدار نہیں ہے
جاذب قریشی

جاذب قریشی

View profile

جاذب قریشی کے خاندان کا تعلق لکھنئو سے تھا مگر وہ 3 اگست 1940 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد گورنمنٹ پریس میں نوکری کر رہے تھے۔ پیدائش کے وقت جاذب قریشی کا نام محمد صابر رکھا گیا۔ ان کے والد کا نام محمد افضل شیخ اور والدہ کا نام محمودہ خانم تھا۔ جاذب قریشی پانچ سال کی عمر میں باپ کے سائے سے محروم ہو گئے۔ والد کی وفات کے بعد جاذب قریشی کا خاندان جو ان کے علاوہ والدہ اور دو چھوٹے بھائیوں شاکر اور ذاکر پہ مشتمل تھا شدید مالی مصیبت کا شکار ہو گیا۔ ان چاروں کے ساتھ جاذب قریشی کی ایک مرحومہ خالہ کی دو لڑکیاں طاہرہ اور عائشہ اور ایک دوسری متوفی خالہ کا لڑکا محمد احمد رہتے تھے۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی۔ مئی 1950 میں جاذب قریشی اپنے گھر والوں کے ساتھ لکھنئو چھوڑ کر لاہور چلے آئے۔ لاہور میں جاذب قریشی ایک چھاپہ خانے میں کام کرتے اور رات کے وقت غزلیں لکھتے۔ لاہور میں شاعری کرنے کے دوران جاذب قریشی نے شاکر دہلوی نامی ایک مقامی بزرگ شاعر کو اپنا استاد مانا اور شاکر دہلوی کے ساتھ کئی مشاعروں میں شرکت کی۔ ایک دن جاذب قریشی کے ایک جاننے والے شوکت ہاشمی نامی آدمی نے ان سے کہا کہ، "اگر آپ کو سنجیدگی سے شاعری کرنی ہے تو پہلے اپنے آپ کو شاعری کا اہل بنائیے اور کچھ لکھنا پڑھنا سیکھیے۔" شوکت ہاشمی کی اس بات کا جاذب قریشی پہ گہرا اثر ہوا اور انھوں نے اپنی باقاعدہ تعلیم کا سفر پھر سے شروع کیا۔ وہ شاہ عالمی کے ایک پرائیویٹ اسکول میں رات کے وقت تعلیم حاصل کرنے لگے۔ انھوں نے اس درمیان افسانے بھی لکھے۔ اور اسی دور میں وہ حلقہ ارباب ذوق کی تنقیدی نشستوں میں بھی شریک ہوئے جہاں منٹو، اے حمید، مختار صدیقی اور عبادت بریلوی وغیرہ اپنی تحریریں تنقید کے لیے پیش کرتے تھے۔ جس وقت جاذب قریشی میٹرک کی تعلیم پرائیویٹ حاصل کر رہے تھے ان کے بھائی اور والدہ کراچی چلے آئے۔ جاذب قریشی اپنے ماموں کے ساتھ لاہور میں رہے جہاں ماموں نے بھانجے کے تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں ہر ممکن مدد کی۔ جاذب قریشی نے لاہور میں کچھ عرصہ اورینٹل کالج میں بھی گزارا جہاں حبیب جالب ان کے ہم جماعت تھے۔ لاہور میں قیام کے دوران ہی جاذب قریشی مخلصین ادب نامی ایک ادبی ادارے کے سیکریٹیری بھی رہے۔ اس ادارے کو فروغ لکھنوی نے قائم کیا تھا اور اس کی محافل انارکلی کے عقب میں ایک صوفی کے تکیے پہ ہوا کرتی تھیں۔ سنہ 1961 میں جاذب قریشی نے اثر نعمانی کے ساتھ مل کر لاہوری گیٹ کے اندر ایک جنرل اسٹور "دلکش اسٹور" کے نام سے کھولا جو چند ماہ ہی چلا اور جاذب قریشی کے لیے خاصہ خسارے کا سودا ثابت ہوا۔ پھر سنہ 1962 میں وہ کراچی آ گئے۔ ان کے اس دور کے دوستوں میں عارف عثمانی، شبنم ہاشمانی، افتخار انور اور زاہد حسین صاحبان سر فہرست ہیں۔ کراچی میں انھوں نے مختلف رسائل مثلا شمس زبیری کے "نقش"، ناصر محمود کے "نگارش"، اطہر صدیقی کے "سات رنگ" اور طفیل احمد جمالی کے "نمکدان" کے لیے کام کیا۔ سنہ 1964 میں انھوں نے تدریس کا کام شروع کیا۔ انھیں دنوں "ارباب قلم" نامی ایک ادبی ادارہ بنا جس کے ساتھ جاذب قریشی نے سنہ 1967 تک کام کیا۔ ارباب قلم کے ساتھ جاذب قریشی کی وابستگی میں اس وقت خلل آیا جب ایک طرف تو انھوں نے جامعہ کراچی میں اپنی باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا اور دوسری طرف ایک فلم "پتھر کے صنم" بنانے کا ارادہ کیا۔ جامعہ کراچی میں ان کے ساتھیوں میں اقبال حیدر اور سلمی رضا شامل ہیں۔ کراچی میں انھوں نے "کائنات" نامی ایک رسالے کے لیے مدیر کے طور پہ کام کیا۔ یہ رسالہ مشہور مصور آذر روبی نکالا کرتے تھے۔ جاذب قریشی نے ہفت روزہ "نصرت" کے لیے کالم نگاری بھی کی ہے۔ 21 جون 2021ء کو طویل علالت کے بعد کراچی میں وفات پاگئے ، وہیں عزیز آباد کے قبرستان میں سپرد خاک کیے گئے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR