اختر عثمان
اک سحر تحیر تھا کہ احساس کی رو تھی
اک سحر تحیر تھا کہ احساس کی رو تھی
دن کو بھی نگاہوں میں شبیہ مہ نو تھی
ہم لوگ تو وابستۂ یک تار نظر تھے
معلوم نہیں اس کے سوا بھی کوئی لو تھی
تب ذہن پہ ظلمات کا پرتو نہ پڑا تھا
جھلمل تھے کمالات خیالات میں ضو تھی
پھر خواب خرد خوار سے بیدار ہوئے تو
ہر ذہن پہ زنگار تھا ہر چشم گرو تھی
خس خانۂ افکار میں کچھ بھی تو نہیں تھا
چند ایک شرارے تھے اور ان کی تگ و دو تھی