اختر عثمان
میں دیکھ ہی رہا تھا کہ یک دم بھنور پھرا
میں دیکھ ہی رہا تھا کہ یک دم بھنور پھرا
گھوما صدف نگاہ میں اس میں گہر پھرا
سیدھے سبھاؤ زیست سمجھنا محال ہے
اس کام کو بھی چاہئے مجھ سا ہی سر پھرا
ہم تو سدا سے بستۂ یک تار چشم ہیں
خدشہ سا تیری سمت سے ہے تو اگر پھرا
یک دم کسی کی یاد میں آنکھیں بھر آئی تھیں
اک دن یوں ہی خیال سوئے چشم تر پھرا
اخترؔ زر سخن کی کسی کو طلب نہیں
میں تو اسے اٹھائے ہوئے در بدر پھرا