اختر عثمان
نگاہ یوں بھی نہ ٹھہرے کہ درد سر بن جائے
نگاہ یوں بھی نہ ٹھہرے کہ درد سر بن جائے
یہ سنگ چشم کسی ڈھب سے اب گہر بن جائے
کمال کوزہ گری ہے کہ میں جسے سوچوں
وہ نقش چاک پہ آنے سے پیشتر بن جائے
جدید عہد میں الٹا ہے ارتقا کا سفر
عجب نہیں ہے پھر انسان جانور بن جائے
میں چاہتا ہوں کہ چکنی چٹان پر ہی چلوں
یہ کیا بعید مرے بعد رہ گزر بن جائے
بہت نحیف نہیں ہے گرفت حلقۂ چشم
نظر اٹھے تو زمانے کی جان پر بن جائے