اختر عثمان
وہ بھی نہ کھلا بستۂ پندار تھے ہم بھی
وہ بھی نہ کھلا بستۂ پندار تھے ہم بھی
خاموش تھا وہ صورت دیوار تھے ہم بھی
حد بندیٔ احساس رہی عمر معین
اور دائرۂ کار میں پرکار تھے ہم بھی
اے نرگس وا چشم ترے اوج کے دن ہیں
تیری ہی طرح دیدۂ بے دار تھے ہم بھی
ہم بھی تھے انہی میں جو زباں سے نہ پھرے تھے
پھر خلق نے دیکھا کہ سر دار تھے ہم بھی
آجر سے جو اجرت ہمیں پہنچی یہی پہنچی
جب قصر گرا تھا تہہ دیوار تھے ہم بھی