اختر عثمان
کس اور لے چلی ہے ہوائے نمو مجھے
کس اور لے چلی ہے ہوائے نمو مجھے
ملتا ہے گام گام اک آشفتہ رو مجھے
کہنا تو اور کچھ تھا دم گفتگو مجھے
اک اور سمت ڈال گئے رنگ و بو مجھے
دونوں ہی درد کیش تھے دونوں ہی بیش تھے
میں تجھ کو کم سمجھتا رہا اور تو مجھے
بزم نمود و نام سجی شور سا اٹھا
میں چل دیا کہ راس نہ تھی ہاؤ ہو مجھے
اخترؔ بڑی کڑی تھی مسافت اور اس کے بعد
مجھ پر کھلا کہ اپنی ہی تھی جستجو مجھے