اختر عثمان
ملو کہ بعد میں شاید یہ سلسلہ نہ رہے
ملو کہ بعد میں شاید یہ سلسلہ نہ رہے
یہ رنگ و گل نہ رہیں صحبت صبا نہ رہے
قریب تر ہے وہ عہد زیاں نصیب کہ جب
بشر بشر نہ رہے اور خدا خدا نہ رہے
وہاں بھی راہ بجھاتی ہے اپنے لفظ کی لو
چراغ چشم جہاں گل ہو راستہ نہ رہے
سفر میں چند مراحل کڑے پڑے ہیں تو کیا
ہمیں جنوں تھا کہ رستہ بجھا بجھا نہ رہے
ہمارے نام پہ گھونگھٹ اٹھا نگار صلیب
ہمارے سر پہ ترا کوئی بھی گلہ نہ رہے