اختر عثمان
جو وہم ہے ڈر ہے پس پردہ نہیں نکلا
جو وہم ہے ڈر ہے پس پردہ نہیں نکلا
بستی سے ابھی تک وہ بگولا نہیں نکلا
ہندہ کی طرح جسم ادھیڑا تھا ہوا نے
لیکن مرے سینے سے کلیجہ نہیں نکلا
کچھ ہم ترے معیار پہ پورے نہیں اترے
کچھ تو بھی کہ مشہور تھا جیسا نہیں نکلا
گو شہر میں پیمائش قد عام ہے لیکن
اک شخص بھی ہم قامت سایہ نہیں نکلا
پوشاک رفو کار کے کیا کہنے کہ اخترؔ
اک تار گریبان میں اپنا نہیں نکلا