اختر عثمان
شعور فاصلۂ خیر و شر دیا ہے مجھے
شعور فاصلۂ خیر و شر دیا ہے مجھے
تری نگاہ نے تبدیل کر دیا ہے مجھے
مرا مقام کہیں اور تھا پہ لگتا ہے
کسی نے رو میں کہیں اور دھر دیا ہے مجھے
بس اک گلہ سا تری چشم نیم باز سے ہے
کہ اس نے وقت بہت مختصر دیا ہے مجھے
مجھے خبر نہیں سودا ہے یا تجسس ہے
مرے خمیر نے کیا درد سر دیا ہے مجھے
میں اپنی راہ بنا لوں گا کوہساروں میں
خرد نے کوہ کنی کا ہنر دیا ہے مجھے