اختر عثمان
فریب خانۂ دنیا بھی دیکھتے چلئے
فریب خانۂ دنیا بھی دیکھتے چلئے
روا روی میں تماشا بھی دیکھتے چلئے
خود اپنا مسکن فردا بھی دیکھتے چلئے
اب آ گئے ہیں تو صحرا بھی دیکھتے چلئے
نہ جانے پھر یہ تلاطم نصیب ہو کہ نہ ہو
اس اوج موج میں دریا بھی دیکھتے چلئے
بقدر سیریٔ عرفاں کوئی بھی رنگ نہیں
دکان زیست کو جتنا بھی دیکھتے چلئے
چراغ نقش کف پا جلائیے ہر سو
مگر ہوا کا اشارہ بھی دیکھتے چلئے