اختر عثمان
ہر عکس مرا عکس ہو اتنا بھی نہیں میں
ہر عکس مرا عکس ہو اتنا بھی نہیں میں
اس آئنہ خانے میں کہیں تو ہے کہیں میں
یہ میرے بدن پر جو سلگنے کے نشاں ہیں
یوں ہیں کہ ذرا بھر کو ہوا اس کے قریں میں
اک وقت میں کتنے ہی گمانوں سے گزر کر
لکھتا ہوں یہ کچھ لفظ سر لوح یقیں میں
یہ عالم نابود ہے یا بود ہے کیا ہے
میں کہتا ہوں میں ہوں کوئی کہتا ہے نہیں میں
وہ در تو بنا ہے نہ بنے گا کبھی اخترؔ
جس کے لئے پھرتا ہوں لئے اپنی جبیں میں