Skip to content
سحر انصاری سحر انصاری

ہاتھ آ سکا ہے سلسلۂ جسم و جاں کہاں

ہاتھ آ سکا ہے سلسلۂ جسم و جاں کہاں اپنی طلب میں گھوم چکا ہوں کہاں کہاں جس بزم میں گیا طلب سر خوشی لیے مجھ سے ترے خیال نے پوچھا یہاں کہاں میں آج بھی خلا میں ہوں کل بھی خلا میں تھا میرے لیے زمین کہاں آسماں کہاں تو ہے سو اپنے حسن کے باوصف غم نصیب میں ہوں تو میرے ہاتھ میں کون و مکاں کہاں ہوتی ہے ایک دشمنی و دوستی کی حد اس حد کے بعد زحمت لفظ و بیاں کہاں راہ جنوں میں تیشہ بدست آ گیا ہوں میں ہر سنگ ہے گراں مگر اتنا گراں کہاں اب چھوڑیئے تصور زلف و مژہ سحرؔ دشت غم جہاں میں کوئی سائباں کہاں
سحر انصاری

سحر انصاری

View profile

نام انور مقبول انصاری اور تخلص سحر ہے۔۲۷؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو اورنگ آباد ، دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن مرادآباد ہے۔۱۹۵۰ء میں اپنے والدین کے ساتھ کراچی آگئے۔۱۹۵۸ء میں گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد جامعہ کراچی سے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں ایم اے کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو رہے۔ بعدازاں اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔ انھوں نے انگریزی کے ترجموں کے ذریعے دنیا کی بیشتر زبانوں کا مطالعہ کیا ہے۔ نظم کے علاوہ نثر میں بہت کچھ لکھا ہے۔ تنقید انھیں زیادہ پسند ہے۔ سحر انصاری کو شعر وادب کا ذوق اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ شاعری میں جالب مرادآبادی کے شاگرد ہیں جو جگر مرادآبادی کے معاصر تھے۔ ان کے پاس کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ انھیں مصوری سے بھی لگاؤ ہے۔۱۹۷۶ء میں ’’نمود‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔ ’’ناسخ۔حیات اور شاعری‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کے لیے تحقیقی مقالہ لکھا۔ انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR