Skip to content
سحر انصاری سحر انصاری

تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ

تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ کیا تماشا ہے کہ مرتے بھی نہیں زہر سے لوگ شہر میں آئے تھے صحرا کی فضا سے تھک کر اب کہاں جائیں گے آسیب زدہ شہر سے لوگ نخل ہستی نظر آئے گا کبھی نخل صلیب زیست کی فال نکالیں گے کبھی زہر سے لوگ ہم کو جنت کی فضا سے بھی زیادہ ہے عزیز یہی بے رنگ سی دنیا یہی بے مہر سے لوگ مطمئن رہتے ہیں طوفان مصائب میں کبھی ڈوب جاتے ہیں کبھی درد کی اک لہر سے لوگ اے زمیں آج بھی ذرے ہیں ترے مہر تراش اے فلک آج بھی لڑتے ہیں ترے قہر سے لوگ صرف محرومیٔ فرہاد کا کیا ذکر سحرؔ بے ستوں کاٹ کے محروم رہے نہر سے لوگ
سحر انصاری

سحر انصاری

View profile

نام انور مقبول انصاری اور تخلص سحر ہے۔۲۷؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو اورنگ آباد ، دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن مرادآباد ہے۔۱۹۵۰ء میں اپنے والدین کے ساتھ کراچی آگئے۔۱۹۵۸ء میں گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد جامعہ کراچی سے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں ایم اے کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو رہے۔ بعدازاں اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔ انھوں نے انگریزی کے ترجموں کے ذریعے دنیا کی بیشتر زبانوں کا مطالعہ کیا ہے۔ نظم کے علاوہ نثر میں بہت کچھ لکھا ہے۔ تنقید انھیں زیادہ پسند ہے۔ سحر انصاری کو شعر وادب کا ذوق اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ شاعری میں جالب مرادآبادی کے شاگرد ہیں جو جگر مرادآبادی کے معاصر تھے۔ ان کے پاس کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ انھیں مصوری سے بھی لگاؤ ہے۔۱۹۷۶ء میں ’’نمود‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔ ’’ناسخ۔حیات اور شاعری‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کے لیے تحقیقی مقالہ لکھا۔ انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR