Skip to content
سحر انصاری سحر انصاری

اک خواب کے موہوم نشاں ڈھونڈ رہا تھا

اک خواب کے موہوم نشاں ڈھونڈ رہا تھا میں حد یقیں پر بھی گماں ڈھونڈ رہا تھا سائے کی طرح بھاگتے ماحول کے اندر میں اپنے خیالوں کا جہاں ڈھونڈ رہا تھا جو راز ہے وہ کھل کے بھی اک راز ہی رہ جائے اظہار کو میں ایسی زباں ڈھونڈ رہا تھا مرہم کی تمنا تھی مجھے زخم سے باہر درماں تھا کہاں اور کہاں ڈھونڈ رہا تھا شاید کہ وہ واقف نہیں آداب سفر سے پانی میں جو قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہا تھا کب تھا اسے اندازہ سحرؔ سنگ فلک کا شیشے کے مکاں میں جو اماں ڈھونڈ رہا تھا
سحر انصاری

سحر انصاری

View profile

نام انور مقبول انصاری اور تخلص سحر ہے۔۲۷؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو اورنگ آباد ، دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن مرادآباد ہے۔۱۹۵۰ء میں اپنے والدین کے ساتھ کراچی آگئے۔۱۹۵۸ء میں گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد جامعہ کراچی سے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں ایم اے کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو رہے۔ بعدازاں اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔ انھوں نے انگریزی کے ترجموں کے ذریعے دنیا کی بیشتر زبانوں کا مطالعہ کیا ہے۔ نظم کے علاوہ نثر میں بہت کچھ لکھا ہے۔ تنقید انھیں زیادہ پسند ہے۔ سحر انصاری کو شعر وادب کا ذوق اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ شاعری میں جالب مرادآبادی کے شاگرد ہیں جو جگر مرادآبادی کے معاصر تھے۔ ان کے پاس کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ انھیں مصوری سے بھی لگاؤ ہے۔۱۹۷۶ء میں ’’نمود‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔ ’’ناسخ۔حیات اور شاعری‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کے لیے تحقیقی مقالہ لکھا۔ انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR