Skip to content
سحر انصاری سحر انصاری

کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی

کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی یہ بات جب کی ہے جب چارہ گر نہ تھا کوئی کسی سے رنگ افق ہی کی بات کر لیتے اب اس قدر بھی یہاں معتبر نہ تھا کوئی بنائے جاؤں کسی اور کے بھی نقش قدم یہ کیوں کہوں کہ مرا ہم سفر نہ تھا کوئی گزر گئے ترے کوچے سے اجنبی کی طرح کہ ہم سے سلسلۂ بام و در نہ تھا کوئی جسے گزار گئے ہم بڑے ہنر کے ساتھ وہ زندگی تھی ہماری ہنر نہ تھا کوئی عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل کہ اٹھ کے وہ بھی چلا جس کا گھر نہ تھا کوئی ہجوم شہر میں شامل رہا اور اس کے بعد سحرؔ ادھر بھی گیا میں جدھر نہ تھا کوئی
سحر انصاری

سحر انصاری

View profile

نام انور مقبول انصاری اور تخلص سحر ہے۔۲۷؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو اورنگ آباد ، دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن مرادآباد ہے۔۱۹۵۰ء میں اپنے والدین کے ساتھ کراچی آگئے۔۱۹۵۸ء میں گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد جامعہ کراچی سے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں ایم اے کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو رہے۔ بعدازاں اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔ انھوں نے انگریزی کے ترجموں کے ذریعے دنیا کی بیشتر زبانوں کا مطالعہ کیا ہے۔ نظم کے علاوہ نثر میں بہت کچھ لکھا ہے۔ تنقید انھیں زیادہ پسند ہے۔ سحر انصاری کو شعر وادب کا ذوق اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ شاعری میں جالب مرادآبادی کے شاگرد ہیں جو جگر مرادآبادی کے معاصر تھے۔ ان کے پاس کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ انھیں مصوری سے بھی لگاؤ ہے۔۱۹۷۶ء میں ’’نمود‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔ ’’ناسخ۔حیات اور شاعری‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کے لیے تحقیقی مقالہ لکھا۔ انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR