سحر انصاری
بڑھا اب اور تقاضے نہ چشم نم اپنے
بڑھا اب اور تقاضے نہ چشم نم اپنے
چھپا کے سب سے کہاں تک لکھوں الم اپنے
ہوئی ہیں اس سے وہ باتیں بھی جو کبھی نہ ہوئیں
اور اس میں بھول گئے ہم تو کتنے غم اپنے
سکون دل کی طلب وحشتوں کے اندیشے
یہی رہے ہیں شب و روز بیش و کم اپنے
کسے تلاش کریں کس کے ہم سفر بن جائیں
خود اپنی راہ میں اٹھتے نہیں قدم اپنے
کچھ اس کی زلف شکن در شکن کے رمز کھلیں
رہ حیات سمیٹے جو پیچ و خم اپنے
سکون قلب و غم دہر کی کشاکش میں
یہی ہوا کہ تمہارے ہوئے نہ ہم اپنے