Skip to content
سحر انصاری سحر انصاری

بڑھا اب اور تقاضے نہ چشم نم اپنے

بڑھا اب اور تقاضے نہ چشم نم اپنے چھپا کے سب سے کہاں تک لکھوں الم اپنے ہوئی ہیں اس سے وہ باتیں بھی جو کبھی نہ ہوئیں اور اس میں بھول گئے ہم تو کتنے غم اپنے سکون دل کی طلب وحشتوں کے اندیشے یہی رہے ہیں شب و روز بیش و کم اپنے کسے تلاش کریں کس کے ہم سفر بن جائیں خود اپنی راہ میں اٹھتے نہیں قدم اپنے کچھ اس کی زلف شکن در شکن کے رمز کھلیں رہ حیات سمیٹے جو پیچ و خم اپنے سکون قلب و غم دہر کی کشاکش میں یہی ہوا کہ تمہارے ہوئے نہ ہم اپنے
سحر انصاری

سحر انصاری

View profile

نام انور مقبول انصاری اور تخلص سحر ہے۔۲۷؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو اورنگ آباد ، دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن مرادآباد ہے۔۱۹۵۰ء میں اپنے والدین کے ساتھ کراچی آگئے۔۱۹۵۸ء میں گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد جامعہ کراچی سے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں ایم اے کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو رہے۔ بعدازاں اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔ انھوں نے انگریزی کے ترجموں کے ذریعے دنیا کی بیشتر زبانوں کا مطالعہ کیا ہے۔ نظم کے علاوہ نثر میں بہت کچھ لکھا ہے۔ تنقید انھیں زیادہ پسند ہے۔ سحر انصاری کو شعر وادب کا ذوق اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ شاعری میں جالب مرادآبادی کے شاگرد ہیں جو جگر مرادآبادی کے معاصر تھے۔ ان کے پاس کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ انھیں مصوری سے بھی لگاؤ ہے۔۱۹۷۶ء میں ’’نمود‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔ ’’ناسخ۔حیات اور شاعری‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کے لیے تحقیقی مقالہ لکھا۔ انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR