Skip to content
سحر انصاری سحر انصاری

من کے مندر میں ہے اداسی کیوں

من کے مندر میں ہے اداسی کیوں نہیں آئی وہ دیو داسی کیوں ابر برسا برس کے کھل بھی گیا رہ گئی پھر زمین پیاسی کیوں اک خوشی کا خیال آتے ہی چھا گئی ذہن پر اداسی کیوں زندگی بے وفا ازل سے ہے پھر بھی لگتی ہے باوفا سی کیوں ایسی فطرت شکار دنیا میں اتنی انسان نا شناسی کیوں کیوں نہیں ایک ظاہر و باطن آدمی ہو گئے سیاسی کیوں غم گساری خلوص مہر و وفا ہو گئے ہیں یہ پھول باسی کیوں اک حقیقت ہے جب وطن کی طلب پھر محبت کریں قیاسی کیوں یہ ملاقات یہ سکوت یہ شام ابتدا میں یہ انتہا سی کیوں ملنے والے بچھڑ بھی سکتے ہیں تیری آنکھوں میں یہ اداسی کیوں
سحر انصاری

سحر انصاری

View profile

نام انور مقبول انصاری اور تخلص سحر ہے۔۲۷؍دسمبر ۱۹۳۹ء کو اورنگ آباد ، دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن مرادآباد ہے۔۱۹۵۰ء میں اپنے والدین کے ساتھ کراچی آگئے۔۱۹۵۸ء میں گورنمنٹ کالج ناظم آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد جامعہ کراچی سے پہلے انگریزی اور پھر اردو میں ایم اے کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو رہے۔ بعدازاں اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔ انھوں نے انگریزی کے ترجموں کے ذریعے دنیا کی بیشتر زبانوں کا مطالعہ کیا ہے۔ نظم کے علاوہ نثر میں بہت کچھ لکھا ہے۔ تنقید انھیں زیادہ پسند ہے۔ سحر انصاری کو شعر وادب کا ذوق اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ شاعری میں جالب مرادآبادی کے شاگرد ہیں جو جگر مرادآبادی کے معاصر تھے۔ ان کے پاس کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ انھیں مصوری سے بھی لگاؤ ہے۔۱۹۷۶ء میں ’’نمود‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔ ’’ناسخ۔حیات اور شاعری‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کے لیے تحقیقی مقالہ لکھا۔ انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR