عاطف توقیر
شوق سرور شام غم اپنے سوا کسی کا ہے
شوق سرور شام غم اپنے سوا کسی کا ہے
جام و سبو کسی کے ہیں کیف و نشہ کسی کا ہے
قرب وجود خاک ہے کوئی گلہ تو چاہئے
کوئی گلہ رہا نہیں ہم سے گلہ کسی کا ہے
شام خیال جاں خلا ماحول دوستاں خلا
وعدہ ہوا کسی سے ہے وعدہ وفا کسی کا ہے
خود کو پہنچ کے دیکھیے کیا نہ پڑے گا بیچ میں
گویا قبا ہے آپ کی بند قبا کسی کی ہے
سحر عصائے سامری خوف خدائے رامسیس
یعنی عصا کسی کا ہے یعنی خدا کسی کا ہے
کس کے خدا کا ذکر ہو کس کے خدا سے کام ہو
دل میں دعا کسی سے ہے حرف دعا کسی کا ہے شوق سرور شام غم اپنے سوا کسی کا ہے
جام و سبو کسی کے ہیں کیف و نشہ کسی کا ہے
قرب وجود خاک ہے کوئی گلہ تو چاہئے
کوئی گلہ رہا نہیں ہم سے گلہ کسی کا ہے
شام خیال جاں خلا ماحول دوستاں خلا
وعدہ ہوا کسی سے ہے وعدہ وفا کسی کا ہے
خود کو پہنچ کے دیکھیے کیا نہ پڑے گا بیچ میں
گویا قبا ہے آپ کی بند قبا کسی کی ہے
سحر عصائے سامری خوف خدائے رامسیس
یعنی عصا کسی کا ہے یعنی خدا کسی کا ہے
کس کے خدا کا ذکر ہو کس کے خدا سے کام ہو
دل میں دعا کسی سے ہے حرف دعا کسی کا ہے شوق سرور شام غم اپنے سوا کسی کا ہے
جام و سبو کسی کے ہیں کیف و نشہ کسی کا ہے
قرب وجود خاک ہے کوئی گلہ تو چاہئے
کوئی گلہ رہا نہیں ہم سے گلہ کسی کا ہے
شام خیال جاں خلا ماحول دوستاں خلا
وعدہ ہوا کسی سے ہے وعدہ وفا کسی کا ہے
خود کو پہنچ کے دیکھیے کیا نہ پڑے گا بیچ میں
گویا قبا ہے آپ کی بند قبا کسی کی ہے
سحر عصائے سامری خوف خدائے رامسیس
یعنی عصا کسی کا ہے یعنی خدا کسی کا ہے
کس کے خدا کا ذکر ہو کس کے خدا سے کام ہو
دل میں دعا کسی سے ہے حرف دعا کسی کا ہے