دشمن شکست کھا کے مفصل نہیں گیا
رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا
انسان نے بسا تو لیے جنگلوں میں شہر
لیکن جناب شہر سے جنگل نہیں گیا
وہ نفرتوں کی آگ تھی ٹھنڈی نہ پڑ سکی
جب تک مرے پڑوس کا گھر جل نہیں گیا
جاوید صبا