تم جو ملاتے پھرتے ہو تم ہر کسی سے ہاتھ
ایسا نہ ہو کہ دھونا پڑے زندگی سے ہاتھ
دست طلب پہ جب بھی رکھے خامشی سے ہاتھ
کتنے حسین لگنے لگے واجبی سے ہاتھ
جاوید صبا