اک نئی صورت نظر آتی ہے روزانہ مجھے
پوچھتا ہے آئینہ مجھ سے کہ پہچانا مجھے
اس جدائی کی گھڑی میں کوئی کس منہ سے کہے
جانے والے یاد رکھنا بھول مت جانے مجھے
یوں ہوا اک دن اچانک کھو گئے دس بیس سال
میں نے پہچانا اسے اس نے نہ پہچانا مجھے
جاوید صبا