اک حسن دل آویز مسلسل تو نہیں ہو
ہر چند کہ ہو پھر بھی مکمل تو نہیں ہو
تیور نہیں دیکھے تھے بحھڑتے ہوئے اس کے
اب بھول بھی جائواسے پاگل تو نہیں ہو
دریا تو نہیں جسم کے کوزے میں نظر بند
جو سب پہ برستا ہے وہ بادل تو نہیں ہو
جاوید صبا