Skip to content
جاوید صبا جاوید صبا

کوئی زمانہ ہو موضوع گفتگو رہے گا

کوئی زمانہ ہو موضوع گفتگو رہے گا وہی رہے گا جو مائل بہ جستجو رہے گا کسے خبر تھی کہ ایسا بھی وقت آئے گا کوئی کسی کے مقابل نہ رو برو رہے گا ڈرے ڈرے سے رہیں گے سب ایک دوسرے سے کوئی کسی کا مسیحا نہ چارہ جو رہے گا سب اپنی اپنی مشینوں میں جلوہ گر رہیں گے نہ میں رہوں گا ترے روبرو نہ تو رہے گا پکارے جائیں گے گنتی سے سارے شاہ و گدا نمود و نام کا موسم بھی بے نمو رہے گا کتاب جبر میں تاریخ کربلا کا ورق لہو لہان رہے گا لہو لہو رہے گا بلائے حبس کے موسم میں سانس لینے کا بس اک وظیفہء جل جلال تو رہے گا رہیں گے میکدے آباد اس طرح سے کہ اب بس ایک جام ہی رندوں کا ہم سبو رہے گا بھرے گا زخم مگر دیر سے بھرے گا صبا ابھی یہ پیرہن درد بے رفو رہے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR