Skip to content
جاوید صبا جاوید صبا

وہ حبس ہے کہ ہر اک سانس تازیانہ لگے

وہ حبس ہے کہ ہر اک سانس تازیانہ لگے کھلی ہیں کھڑکیاں دروازے اور ہوا نہ لگے ابھی تو پہلی ملاقات ہی نہیں ہوئی ختم ترے فراق کو شائدابھی زمانہ لگے نیالباس بھی پہنو تو اس طرح پہنو جسےنصیب نہیں ہے اسے برا نہ لگے اداس لوگوں میں بیٹھے کوئی تو دھیان رکھے لگے ان ہی کی طرح ان سے ماورا نہ لگے یہ احتیاط میں کیا کیا سخن کشی نہ ہوئی اسے برا نہ لگے اور اسے برا نہ لگے کسی سے حال بھی پوچھو تو اس طرح کہ اسے مرض مرض نہ لگے اور دوا دوا نہ لگے بہار میں تو سب ہی سبز پوش لگتے ہیں وہ کیا شجر جو خزاں میں ہرا بھرا نہ لگے عجیب طور سے ہم تم نے زندگانی کی الگ الگ نظر آئے جدا جدا نہ لگے خدا دراز کرے عمر حلقہء احباب کہ حاضری بھی جہاں اپنی غائبانہ لگے جو دے رہے ہیں اسے بے وفائی کا طعنہ وہ ان سے ہاتھ ملا لے تو بے وفا نہ لگے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR