Skip to content
جاوید صبا جاوید صبا

کج نگاہی میں بھی جادو ہے فسوں ہے یوں ہے

کج نگاہی میں بھی جادو ہے فسوں ہے یوں ہے بادہ کم کم ہے مگر نشہ فزوں ہے یوں ہے عہد و پیمان وفا چلیے ہمی نے توڑا یوں اگر ہے بھی تو فرمائیے کیوں ہے،یوں ہے جام و مینا و سبو سب ترے فریادی ہیں تیری گردن پہ صراحی کا بھی خوں ہے یوں ہے حسد و رشک و رقابت ہے متاع عشاق نظر بد بھی یہاں نیک شگوں ہے یوں ہے اس نے یہ کہہ کے مری ساری دلیلیں رد کیں جی نہیں یوں نہیں بالکل نہیں یوں ہے یوں ہے ٹک کے بیٹھوں تو سمندر سے کنواں ہو جائوں بے قراری ہی مجھے وجہہ سکوں ہے یوں ہے کوئی اچھا ہے تو اچھا اسے ثابت بھی کرو یوں ہی کہہ دینے سے کیا ہوتا ہے یوں ہے یوں ہے شاعری کیا ہے مری کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں وحشت دل کو چھپانے کا جنوں ہے یوں ہے میر صاحب کو سنائی ہے ابھی تازہ غزل ان کی جانب سے ابھی ہاں نہیں ہوں ہے یوں ہے سوگ میں ڈوب کے لکھو تو لکھو حرف صبا پرچم شعر و سخن یوں بھی نگوں ہے یوں ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR