Skip to content
جاوید صبا جاوید صبا

اس نے پیمان وفا جتنے تھے سارے باندھے

اس نے پیمان وفا جتنے تھے سارے باندھے میرے دامن سے دوپٹے کے کنارے باندھے اپنی انگشت حنائی پہ نچایا اس نے ایک کھونٹے سے مری سوچ کے دھارے باندھے منتشر کر کے مجھے خود کو سمیٹا اس نے ایک لٹ چھوڑ کے سب بال سنوارے باندھے ہاتھ دو ہاتھ ہی باقی تھی مسافت اس سے لغزش پا نے مگر ہاتھ ہمارے باندھے اس کا دل رکھنے کی خاطر جو کیا تھا اک دن دل نبھاتا رہا وہ عہد بھی مارے باندھے دونوں ہاتھوں سے لٹایا ہے خزانہ دل کا مفت بیچا کبھی سودا نہ ادھارے باندھے جگمگاتی ہی رہی حسن کی تابش سے غزل چاند ٹانکے کبھی مصرعوں میں ستارے باندھے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR