Skip to content
حمایت علی شاعر حمایت علی شاعر

ب بتاؤ جائے گی زندگی کہاں یارو

اب بتاؤ جائے گی زندگی کہاں یارو پھر ہیں برق کی نظریں سوئے آشیاں یارو اب نہ کوئی منزل ہے اور نہ رہ گزر کوئی جانے قافلہ بھٹکے اب کہاں کہاں یارو پھول ہیں کہ لاشیں ہیں باغ ہے کہ مقتل ہے شاخ شاخ ہوتا ہے دار کا گماں یارو موت سے گزر کر یہ کیسی زندگی پائی فکر پا بہ جولاں ہے گنگ ہے زباں یارو تربتوں کی شمعیں ہیں اور گہری خاموشی جا رہے تھے کس جانب آ گئے کہاں یارو راہزن کے بارے میں اور کیا کہوں کھل کر میر کارواں یارو میر کارواں یارو صرف زندہ رہنے کو زندگی نہیں کہتے کچھ غم محبت ہو کچھ غم جہاں یارو وقت کا تقاضا تو اور بھی ہے کچھ لیکن کچھ نہیں تو ہو جاؤ میرے ہم زباں یارو ایک میں ہوں جس کو تم مانتے نہیں شاعرؔ اور ایک میں ہی ہوں تم میں نکتہ داں یارو
حمایت علی شاعر

حمایت علی شاعر

View profile

حمایت علی شاعر 1926ء میں اورنگ آباد، بھارت میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام حمایت طراب ہے۔ وہ 1950ء کے اوائل میں حمایت علی کراچی آکر ریڈیو پاکستان کا حصہ بنے۔ ریڈیو میں مختلف ذمہ داریاں انجام دینے کے ساتھ 60ء کے عشرے میں انھوں نے پاکستان کی فلمی دنیا میں بطور گیت کار قدم رکھا اوربہت سے ایوارڈ حاصل کیے تھے ۔ حمایت علی نے پہلے افسانہ نگاری سے شروعات کی۔ پھر انھوں نے شاعری کا رُخ کیا۔ آپ نے جدید اردو شاعری میں ’’ثلاثی‘‘ کے فن کو ایجاد کیا۔آپ نے پی ایچ ڈی کے سلسلے میں اپنا مقالہ ’’ پاکستان میں اردو ڈراما‘‘ ، سندھ یونیورسٹی (حیدرآباد ) سے جمع کروایا۔نہایت عالم فاضل شاعر۔آپ کے ڈراموں کا مجموعہ ’’ فاصلے‘‘ کے عنوان سے طبع ہوا۔آپ کی ایک اور تصنیف ’’شکست کی آواز‘‘ میں منظوم ڈرامے شام ہیں۔حمایت علی شاعر سندھ یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ رہے اور رٹائرمنٹ کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے ، بعد ازاں امریکا چلے گئے اور آج کل وہیں مقیم ہیں۔1950ء میں آپ کا شعری مجموعہ ’’گھن گھرج‘‘ بھارت سے شایع ہوا۔آپ 9 ؍ عدد شعری مجموعوں کے خالق ہیں،ا ن میں سے واحد گیتوؓ کا مجموعہ ’’سرگم‘‘ ہے۔دیگر مجموعوں میں ’’آگ میں پھول‘‘ ، ’’ مٹی کا قرض ‘‘ ،’’تشنگی کا سفر ‘‘ اور ’’ہارون کی آواز‘‘ شامل ہیں۔حمایت علی شاعر نے اردو کے مختلف شعرأکا انتخاب ’’دودِ چراغِ محفل‘‘ کے عنوان سے شایع کیا۔شیخ ایاز کے بارے میں ایک جامع تحقیق’’شیخ ایاز‘‘ کے عنوان سے کی جو اسی عنوان سے شایع ہوئی۔1979ء میں آپ کی دوسری تحقیق ’’ اردو نعتیہ شاعری کے 700 سال‘‘ ہندُستان سے شایع ہوئی ۔’’برزخ‘‘ آپ کے نثری ڈراموں پر مبنی کتاب کا نام ہے۔شعر و شاعری کے علاوہ آپ صحافت ، ادارت۔تدریس ، فلم سازی ،ہدایت کاری اور نغمہ نگاری سے بھی منسلک رہے۔آپ نے حیدرآباد سندھ میں دو اخباروں میں بھی ملازمت کی جن کے نام ’’جناح‘‘ اور ’’ منزل‘‘ تھے۔ساتھ ہی آپ نے حیدرآباد سندھ میں ’’ارژنگ‘‘ کے نام سے ایک ثقافتی ادارہ بھی قائم کیا تھا۔حمایت علی شاعر نے دو فلمیں ’’نوری‘‘ اور ’’گڑیا‘‘ بھی بنائیں اور فلم ’’آنچل‘‘ اور ’’دامن‘‘ کے لیے نغمہ نگاری پر آپ کو ’’نگار ایوارڈز‘‘ بھی دیے گئے بعمر 93 برس 15 جولائی 2019ء کو کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں بعارضہ قلب رحلت فرما گئے، جہاں اپنے بیٹے بلند اقبال کے پاس مقیم تھے، ان کی وفات کی تصدیق ان کے فرزند ڈاکٹر اوج کمال نے کی جو کراچی میں مقیم ہیں، حمایت کی تدفین ٹورانٹو میں ہوئی آپ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے 2002ء میں حکومت ِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس دیا گیا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR