نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہے


نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہے

عذاب جھیل رہا ہوں سخنوری کیا ہے

عجب ہے ذوق تماشا کہ گھر جلا کر لوگ

یہ چاہتے ہیں سمجھنا کہ روشنی کیا ہے

پس نظر ہو اگر مقصد حیات تو پھر

یہ زیست وقت گزاری ہے زندگی کیا ہے

میں ملتجی ہوں نہ وہ ملتفت مگر پھر بھی

یہ ایک آگ دلوں میں لگی ہوئی کیا ہے

میں دل کے داغ دکھاؤں کہ زخم سر ان کو

جو پوچھتے ہیں کہ مفہوم دوستی کیا ہے
پیرزادہ قاسم
پیرزادہ قاسم

پیرزادہ قاسم رضا صدیقی 8 فروری 1943ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، تقسیم ہند کے بعد والدین کے ساتھ کراچی آگئے پیر زادہ قاسم نے ڈی جے سائنس کالج سے انٹر اور جامعہ کراچی سے بی ایس سی (آنر) کے بعد ایم ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد نیو کیسل یونیورسٹی برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ 1960ء میں جامعہ کراچی میں بحیثیت لیکچرار مقرر ہوئے۔ دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرووائس چانسلر اور رجسٹرار، رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔ پیرزادہ قاسم 2012ء تک جامعہ کراچی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ ، وفاقی اردو یونیورسٹی اور ضیاء الدین یونیورسٹی کے بھی وائس چانسلر بنے رہے پیرزادہ قاسم 1960ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے تمام صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے، مگر غزل ان کا خاص میدان ہے۔ 1996ء میں دبئی میں جشن پیرزادہ قاسم بڑی شان وشوکت سے منایا گیا۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں : ’تند ہوا کے جشن میں ‘‘، ’’شعلے پہ زبان‘‘۔ آپ اردو زبان کے ممتاز شعرا کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور تمام دنیا میں بحیثیت شاعر اپنی الگ شناخت کے حامل ہیں۔

نوشته‌های بیشتری از همین نویسنده

از نور زبان و هوش مصنوعی بهره‌مند شوید۔

از واژه‌نامه‌ها، املا‌سنج‌ها و نویسه‌شناسان بهره‌مند شوید، گامی انقلابی برای دانش‌آموزان، معلمان، پژوهشگران و افراد مرتبط با حوزه‌ها و صنایع مختلف۔

لغات

فرآیند علمی و پژوهشی را از طریق فرهنگ‌های لغت مختلف پاکستانی و بین‌المللی آسان کنید۔

استفاده کنید

بررسی‌کننده‌ی املا

اشتباهات املایی را در زبان‌های مختلف شناسایی و اصلاح کنید۔

استفاده کنید

تشخیص نوری نویسه‌ها

تصاویر را با استفاده از فناوری پیشرفته تشخیص نویسه به متن قابل ویرایش تبدیل کنید۔

استفاده کنید