Skip to content
وصی شاہ وصی شاہ

کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا

کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئی نئے افلاک پہ پہرے بٹھا کر کچھ نہیں ملتا کوئی اک آدھ سپنا ہو تو پھر اچھا بھی لگتا ہے ہزاروں خواب آنکھوں میں سجا کر کچھ نہیں ملتا سکوں ان کو نہیں ملتا کبھی پردیس جا کر بھی جنہیں اپنے وطن سے دل لگا کر کچھ نہیں ملتا اسے کہنا کہ پلکوں پر نہ ٹانکے خواب کی جھالر سمندر کے کنارے گھر بنا کر کچھ نہیں ملتا یہ اچھا ہے کہ آپس کے بھرم نہ ٹوٹنے پائیں کبھی بھی دوستوں کو آزما کر کچھ نہیں ملتا نہ جانے کون سے جذبے کی یوں تسکین کرتا ہوں بظاہر تو تمہارے خط جلا کر کچھ نہیں ملتا فقط تم سے ہی کرتا ہوں میں ساری راز کی باتیں ہر اک کو داستان دل سنا کر کچھ نہیں ملتا عمل کی سوکھتی رگ میں ذرا سا خون شامل کر مرے ہمدم فقط باتیں بنا کر کچھ نہیں ملتا اسے میں پیار کرتا ہوں تو مجھ کو چین آتا ہے وہ کہتا ہے اسے مجھ کو ستا کر کچھ نہیں ملتا مجھے اکثر ستاروں سے یہی آواز آتی ہے کسی کے ہجر میں نیندیں گنوا کر کچھ نہیں ملتا جگر ہو جائے گا چھلنی یہ آنکھیں خون روئیں گی وصیؔ بے فیض لوگوں سے نبھا کر کچھ نہیں ملتا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR