Skip to content
وصی شاہ وصی شاہ

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں تمہارے بعد یہ عادت سی ہو گئی اپنی بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ہیں خوشی سی ملتی ہے خود کو اذیتیں دے کر سو جان بوجھ کے دل کو نڈھال رکھتے ہیں کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں کبھی کبھی مرا بے حد خیال رکھتے ہیں تمہارے ہجر میں یہ حال ہو گیا اپنا کسی کا خط ہو اسے بھی سنبھال رکھتے ہیں خوشی ملے تو ترے بعد خوش نہیں ہوتے ہم اپنی آنکھ میں ہر دم ملال رکھتے ہیں زمانے بھر سے بچا کر وہ اپنے آنچل میں مرے وجود کے ٹکڑے سنبھال رکھتے ہیں کچھ اس لیے بھی تو بے حال ہو گئے ہم لوگ تمہاری یاد کا بے حد خیال رکھتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR