Skip to content
وصی شاہ وصی شاہ

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو

باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو جیسے بالوں میں کوئی پھول چنا کرتا ہے گھر کے گلدان میں پھولوں سا سجا لیں تم کو کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میں کر کے منا سا ہواؤں میں اچھالیں تم کو اس قدر ٹوٹ کے تم پہ ہمیں پیار آتا ہے اپنی بانہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تم کو ہے تمہارے لیے کچھ ایسی عقیدت دل میں اپنے ہاتھوں میں دعاؤں سا اٹھا لیں تم کو جان دینے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہو ورنہ مر جائیں ابھی مر کے منا لیں تم کو جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور اپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تم کو اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کسی موڑ پر تم ہم کو بکھرے ہوئے مل جاؤ سنبھالیں تم کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR