نظیر اکبر آبادی
کیا نام خدا اپنی بھی رسوائی ہے کم بخت
کیا نام خدا اپنی بھی رسوائی ہے کم بخت
رسوائی مجنوں بھی تماشائی ہے کم بخت
لڑنے کو لڑے اس سے پر اب کرتے ہیں افسوس
افسوس عجب اپنی بھی دانائی ہے کم بخت
اک بات بھی مل کر نہ کریں اس سے ہم اے چرخ
کیا تجھ کو یہی بات پسند آئی ہے کم بخت
ہمدم تو یہی کہتے ہیں چل بزم میں اس کی
کیا کہئے اسے اپنی جو خود رائی ہے کم بخت
وہ تو نہیں واقف پہ ہمیں دل میں خجل ہیں
کس منہ سے کہیں ہم نے قسم کھائی ہے کم بخت
یارو ہمیں تکلیف نہ دو سیر چمن کی
آنے دو بلا سے جو بہار آئی ہے کم بخت
رہنے دو ہمیں کنج قفس میں کہ ہمارے
قسمت میں یہی گوشۂ تنہائی ہے کم بخت
اس جام نگوں سے مے راحت نہ طلب کر
یاں بادہ نہیں بادیہ پیمائی ہے کم بخت
توڑے ہیں بہت شیشۂ دل جس نے نظیرؔ آہ
پھر چرخ وہی گنبد بینائی ہے کم بخت