Skip to content
نظیر اکبر آبادی نظیر اکبر آبادی

دیا جو ساقی نے ساغر مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالب

دیا جو ساقی نے ساغر مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالب اگرچہ مے کش تو ہم نئے تھے پہ لب پہ رکھتے ہی پی گئے سب چلے ہیں دینے کو ہم جسے دل وہ ہنس کے لے لے بس اب ہمیں تو یہی ہے خواہش یہی تمنا یہی ہے مقصد یہی ہے مطلب کبھی جو آتے ہیں دیکھنے ہم تو آپ تیوری کو ہیں چڑھاتے جو ہر دم آویں تو کیجے خفگی میاں ہم آتے ہیں ایسے کب کب نہ پی تھی ہم نے یہ مے تو جب تک نظیرؔ ہم میں تھا دین و ایماں لگا لبوں سے وہ جام پھر تو کہاں کا دین اور کہاں کا مذہب
نظیر اکبر آبادی

نظیر اکبر آبادی

View profile

نظیر اکبر آبادی کا نام شیخ ولی محمد تھا۔ نظیر تخلص رکھ کر شاعری کی۔(1735-1740 کے عرصہ کے دوران پیدا ہوئے (ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کے مطابق نادر شاہ کے دہلی حملہ کے وقت پیدا ہوئے تھے) دلی میں پیدا ہو‎ئے۔ آپ کے والد کا نام محمد فاروق تھاجو اپنے والدکی بارہ اولادوں میں سے صرف ایک ہی بچے تھے۔ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ والدہ کے ساتھ آگرہ منتقل ہو گئے اور محلّہ تاج گنج میں مقیم ہوئے۔ ایک مکتب سے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ طبیعت میں موزونیت فطرت سے ملی تھی اس لیے شاعری شروع کی۔ نظیر ایک سادہ اور صوفی منش آدمی تھے، ان کی ساری عمر معلمی میں بسر ہوئی۔ وہ قناعت پسند تھے، بھرت پور کے حکمرانوں نے دعوت نامے بھیجے پر انہوں نے قبول نہ کیے۔ وہ کسی دربار سے وابستہ نہیں ہوئے، آخری عمر میں فالج کی حالت میں مبتلا ہوئے اور 1830ء میں انتقال کرگئے۔ آپکا مزار دہلی میں ہے۔ اردو کی نئ کتاب ہائ اسکول(اترپردیش)نصاب میں شامل کتاب میں نظیر صاحب کی تاریخ پیدائش کے بارے ميں اختلاف کے ساتھ 1732/1735 لکھا گیا ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR