Skip to content
نظیر اکبر آبادی نظیر اکبر آبادی

مرا خط ہے جہاں یارو وہ رشک حور لے جانا

مرا خط ہے جہاں یارو وہ رشک حور لے جانا کسی صورت سے واں تک تم مرا مذکور لے جانا اگر وہ شعلہ رو پوچھے مرے دل کے پھپھولوں کو تو اس کے سامنے اک خوشۂ انگور لے جانا جو یہ پوچھے کہ اب کتنی ہے اس کے رنگ پر زردی تو یارو تم گل صد برگ یا کافور لے جانا اگر پوچھے مرے سینے کے زخموں کو تو اے یارو کہیں سے ڈھونڈھ کر اک خانۂ زنبور لے جانا رقیب رو سیہ کے حال کا گر ماجرا پوچھے تو اس کے سامنے جنگل سے اک لنگور لے جانا نظیرؔ اک دن خوشی سے یار نے ہنس کر کہا مجھ کو کہ تو بھی ایک بوسہ ہم سے اے رنجور لے جانا
نظیر اکبر آبادی

نظیر اکبر آبادی

View profile

نظیر اکبر آبادی کا نام شیخ ولی محمد تھا۔ نظیر تخلص رکھ کر شاعری کی۔(1735-1740 کے عرصہ کے دوران پیدا ہوئے (ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کے مطابق نادر شاہ کے دہلی حملہ کے وقت پیدا ہوئے تھے) دلی میں پیدا ہو‎ئے۔ آپ کے والد کا نام محمد فاروق تھاجو اپنے والدکی بارہ اولادوں میں سے صرف ایک ہی بچے تھے۔ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ والدہ کے ساتھ آگرہ منتقل ہو گئے اور محلّہ تاج گنج میں مقیم ہوئے۔ ایک مکتب سے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ طبیعت میں موزونیت فطرت سے ملی تھی اس لیے شاعری شروع کی۔ نظیر ایک سادہ اور صوفی منش آدمی تھے، ان کی ساری عمر معلمی میں بسر ہوئی۔ وہ قناعت پسند تھے، بھرت پور کے حکمرانوں نے دعوت نامے بھیجے پر انہوں نے قبول نہ کیے۔ وہ کسی دربار سے وابستہ نہیں ہوئے، آخری عمر میں فالج کی حالت میں مبتلا ہوئے اور 1830ء میں انتقال کرگئے۔ آپکا مزار دہلی میں ہے۔ اردو کی نئ کتاب ہائ اسکول(اترپردیش)نصاب میں شامل کتاب میں نظیر صاحب کی تاریخ پیدائش کے بارے ميں اختلاف کے ساتھ 1732/1735 لکھا گیا ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR