Skip to content
نظیر اکبر آبادی نظیر اکبر آبادی

تری قدرت کی قدرت کون پا سکتا ہے کیا قدرت

تری قدرت کی قدرت کون پا سکتا ہے کیا قدرت ترے آگے کوئی قادر کہا سکتا ہے کیا قدرت تو وہ یکتائے مطلق ہے کہ یکتائی میں اب تیری کوئی شرک دوئی کا حرف لا سکتا ہے کیا قدرت زمیں سے آسماں تک تو نے جو جو رنگ رنگے ہیں یہ رنگ آمیزیاں کوئی دکھا سکتا ہے کیا قدرت ہزاروں گل ہزاروں گل بدن تو نے بنا ڈالے کوئی مٹی سے ایسے گل کھلا سکتا ہے کیا قدرت ہوئے ہیں نور سے جن کے زمین و آسماں پیدا کوئی یہ چاند یہ سورج بنا سکتا ہے کیا قدرت ہوا کے فرق پر کوئی بنا کر ابر کا خیمہ طنابیں تار باراں کی لگا سکتا ہے کیا قدرت جم و اسکندر و دارا و کیکاؤس و کیخسرو کوئی اس ڈھب کے دل بادل بنا سکتا ہے کیا قدرت کیا نمرود نے گو کبر سے دعویٰ خدائی کا کہیں اس کا یہ دعویٰ پیش جا سکتا ہے کیا قدرت نکالا تیرے اک پشتے نے کفشیں مار مغز اس کا سوا تیرے خدا کوئی کہا سکتا ہے کیا قدرت نکالے لکڑیوں سے تو نے جس جس لطف کے میوے کوئی پیڑوں میں یہ پیڑے لگا سکتا ہے کیا قدرت ترے ہی خوان نعمت سے ہے سب کی پرورش ورنہ کوئی چیونٹی سے ہاتھی تک کھلا سکتا ہے کیا قدرت ہماری زندگانی کو بغیر از تیری قدرت کے کوئی پانی کو پانی کر بہا سکتا ہے کیا قدرت ترے حسن تجلی کا جہاں ذرہ جھمک جاوے تو پھر موسیٰ کوئی واں تاب لا سکتا ہے کیا قدرت دم عیسیٰ میں وہ تاثیر تھی تیری ہی قدرت کی وگرنہ کوئی مردے کو جلا سکتا ہے کیا قدرت تو وہ محبوب چنچل ہے کہ بار ناز کو تیرے بغیر از مصطفی کوئی اٹھا سکتا ہے کیا قدرت نظیرؔ اب طبع پر جب تک نہ فیضان الٰہی ہو کوئی یہ لفظ یہ مضموں بنا سکتا ہے کیا قدرت
نظیر اکبر آبادی

نظیر اکبر آبادی

View profile

نظیر اکبر آبادی کا نام شیخ ولی محمد تھا۔ نظیر تخلص رکھ کر شاعری کی۔(1735-1740 کے عرصہ کے دوران پیدا ہوئے (ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کے مطابق نادر شاہ کے دہلی حملہ کے وقت پیدا ہوئے تھے) دلی میں پیدا ہو‎ئے۔ آپ کے والد کا نام محمد فاروق تھاجو اپنے والدکی بارہ اولادوں میں سے صرف ایک ہی بچے تھے۔ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ والدہ کے ساتھ آگرہ منتقل ہو گئے اور محلّہ تاج گنج میں مقیم ہوئے۔ ایک مکتب سے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ طبیعت میں موزونیت فطرت سے ملی تھی اس لیے شاعری شروع کی۔ نظیر ایک سادہ اور صوفی منش آدمی تھے، ان کی ساری عمر معلمی میں بسر ہوئی۔ وہ قناعت پسند تھے، بھرت پور کے حکمرانوں نے دعوت نامے بھیجے پر انہوں نے قبول نہ کیے۔ وہ کسی دربار سے وابستہ نہیں ہوئے، آخری عمر میں فالج کی حالت میں مبتلا ہوئے اور 1830ء میں انتقال کرگئے۔ آپکا مزار دہلی میں ہے۔ اردو کی نئ کتاب ہائ اسکول(اترپردیش)نصاب میں شامل کتاب میں نظیر صاحب کی تاریخ پیدائش کے بارے ميں اختلاف کے ساتھ 1732/1735 لکھا گیا ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR