Skip to content
انشاء اللہ خان انشاء انشاء اللہ خان انشاء

حضرت عشق ادھر کیجے کرم یا معبود

حضرت عشق ادھر کیجے کرم یا معبود بال گوپال ہیں یاں آپ کے ہم یا معبود بندہ خانہ میں اجی لائیے تشریف شریف آ کے رکھ دیجے ان آنکھوں پہ قدم یا معبود نفی اثبات کی شاغل جو قلندر ہیں سو وہ اپنی گردن کو نہیں کرتے ہیں خم یا معبود اپنے داتا کی حقیقت کے ہیں جلوہ تم میں لمعۂ نور تجلی کی قسم یا معبود جلد پھٹکارئے سبزے کے نشہ کو کوڑا کھینچیے اور کوئی سلفے کا دم یا معبود آپ ہی آپ ہیں وہ آپ نے سچ فرمایا یوں بھی کچھ دھوکے سے تھے نام کو ہم یا معبود ورنہ یہ عاریتاً ہے جو وجود اپنا سو گزراں وہ تو ہے جوں موجۂ یم یا معبود واقعی بولنے سے اپنے لڑا بیٹھے جو آنکھ کیوں خودی سے نہ کرے پھیر وہ رم یا معبود آنکھ کو کہتے عرب عین ہیں سو عین اگر دم پر آ جائے تو ہو عین عدم یا معبود رات تریاک نشہ نے تو الٹ ڈالا واہ کوئی گھولا تو وہ تھا کاسۂ سم یا معبود سدرہ تک آن تو پہونچا ہوں دلی قصد ہے یہ کہ بڑھوں اور بھی دو چار قدم یا معبود چار زانو ہو اب انشاؔ بھی زمیں سے اونچا یک و جب رہنے لگا سادہ کی دم یا معبود
انشاء اللہ خان انشاء

انشاء اللہ خان انشاء

View profile

سید انشاء اللہ خان انشاء (پیدائش: دسمبر 1752ء— وفات: 19 مئی 1817ء) میر ماشااللہ خان کے بیٹے تھے۔ جو ایک ماہر طبیب تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے۔ انشاءکے دادا سید نوراللہ خاں نجف میں طبابت کرتے تھے کہ بادشاہ دہلی فرخ سیئر نے انھیں اپنے علاج کے لیے ہندوستان کا بُلاوا بھیجا۔ وہ اپنے فرزند میر ماشاء اللہ خاں کے ہم راہ ہندوستان آئے اور بادشاہ کا علاج کیا۔ صحت یابی کے بعد بادشاہ نے انھیں خوب نوازا۔ چناں چہ وہ یہیں کے ہو رہے۔ ان کے فرزند میر ماشاء اللہ خاں جوانی میں مرشد آباد چلے گئے تھے وہیں انھوں نے دو شادیاں کیں، انشاء اللہ خاں ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔ مغلیہ عہد میں ہندوستان تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی رکاب میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کو زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر مرشد آباد چلے گئے۔ جہاں 1756ء انشاء پیدا ہوئے۔ انشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل،ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اوراردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔ یہی نہیں بلکہ انشاء پہلے ہندوستانی ہیں جنھوں نے دریائے لطافت کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پرروشنی ڈالی۔ انشاء نے 1817ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR