Skip to content
انشاء اللہ خان انشاء انشاء اللہ خان انشاء

بھلے آدمی کہیں باز آ ارے اس پری کے سہاگ سے

بھلے آدمی کہیں باز آ ارے اس پری کے سہاگ سے کہ بنا ہوا ہو جو خاک سے اسے کیا مناسبت آگ سے بہت اپنی تاک بلند تھی کوئی بیس گز کی کمند تھی پر اچھال پھاندا وہ بند تھی ترے چوکیداروں کی جاگ سے بہت آئے مہرے کڑے کڑے وہ جو منڈ جی تھے بڑے بڑے ولے ایسے تو نہ نظر پڑے کہ جو صاف پاک ہوں لاگ سے وہ سیاہ بخت جو رات کو ترے دام زلف میں پھنس گیا اسے آ کے وہم و خیال کے لگے ڈسنے سیکڑوں ناگ سے بھرا میں نے بندرابن میں جو ارے کشن ہوپ کا نعرہ تو مہاراج ناچتے کودتے چلے آئے لٹ پٹی پاگ سے لگے کہنے کھیم کُسل اسے جو علیؔ کے دھیان کے بیچ ہے تورے دکھ دلدر جتی تھے گئے بھاگ آپ کے بھاگ سے ہوئے عاشق ان کے ہیں مرد و زن یہ انوکھی ان کی بھی کچھ نہیں کوئی تازہ آئے ہیں برہمن یہ جو کاشی اور پراگ سے تجھے چاہتے نہیں ہم ہیں بس انہوں کو بھی تو تری ہوس وہ جو بھکڑے بیر سے سو برس کے پرانے بوڑھے ہیں داگ سے اے لو آئے آئے سوائے کچھ نہیں بات دھیان میں چڑھتی کچھ کچھ اک ان فقیروں کی مجلسیں بھی تو ملتی جلتی ہیں بھاگ سے مجھے کام ان کے جمال سے نہ تو ٹپّے سے نہ خیال سے نہ تو وجد سے نہ تو حال سے نہ تو ناچ سے نہ تو راگ سے یہ سعادت اس کو علیؔ نے دی جو وزیر اعظم ہند ہے کہ بدولت اس کی جہان میں نہیں خوف بکری کو باگ سے مجھے رحم آتا ہے ایسوں پر بسر اپنے کرتے ہیں وقت جو کسی پھل سے یا کسی پھول سے کسی پات سے کسی ساگ سے گتھی ان سروں ہی میں آ گئی مجھے اک عروس کے باس سے ابھی انشاؔ اپنا ہو بس اگر تو لپٹ ہی جاؤں بہاگ سے
انشاء اللہ خان انشاء

انشاء اللہ خان انشاء

View profile

سید انشاء اللہ خان انشاء (پیدائش: دسمبر 1752ء— وفات: 19 مئی 1817ء) میر ماشااللہ خان کے بیٹے تھے۔ جو ایک ماہر طبیب تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے۔ انشاءکے دادا سید نوراللہ خاں نجف میں طبابت کرتے تھے کہ بادشاہ دہلی فرخ سیئر نے انھیں اپنے علاج کے لیے ہندوستان کا بُلاوا بھیجا۔ وہ اپنے فرزند میر ماشاء اللہ خاں کے ہم راہ ہندوستان آئے اور بادشاہ کا علاج کیا۔ صحت یابی کے بعد بادشاہ نے انھیں خوب نوازا۔ چناں چہ وہ یہیں کے ہو رہے۔ ان کے فرزند میر ماشاء اللہ خاں جوانی میں مرشد آباد چلے گئے تھے وہیں انھوں نے دو شادیاں کیں، انشاء اللہ خاں ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔ مغلیہ عہد میں ہندوستان تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی رکاب میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کو زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر مرشد آباد چلے گئے۔ جہاں 1756ء انشاء پیدا ہوئے۔ انشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل،ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اوراردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔ یہی نہیں بلکہ انشاء پہلے ہندوستانی ہیں جنھوں نے دریائے لطافت کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پرروشنی ڈالی۔ انشاء نے 1817ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR