Skip to content
انشاء اللہ خان انشاء انشاء اللہ خان انشاء

مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹا

مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹا تو کیا بہک کے میں نے اسے اک سلام الٹا سحر ایک ماش پھینکا مجھے جو دکھا کے ان نے تو اشارا میں نے تاڑا کہ ہے لفظ شام الٹا یہ بلا دھواں نشہ ہے مجھے اس گھڑی تو ساقی کہ نظر پڑے ہے سارا در و صحن و بام الٹا بڑھوں اس گلی سے کیوں کر کہ وہاں تو میرے دل کو کوئی کھینچتا ہے ایسا کہ پڑے ہے گام الٹا در مے کدہ سے آئی مہک ایسی ہی مزے کی کہ پچھاڑ کھا گرا واں دل تشنہ کام الٹا نہیں اب جو دیتے بوسہ تو سلام کیوں لیا تھا مجھے آپ پھیر دیجے وہ مرا سلام الٹا لگے کہنے آب مائع تجھے ہم کہا کریں گے کہیں ان کے گھر سے بڑھ کر جو پھرا غلام الٹا مجھے کیوں نہ مار ڈالے تری زلف الٹ کے کافر کہ سکھا رکھا ہے تو نے اسے لفظ رام الٹا نرے سیدھے سادے ہم تو بھلے آدمی ہیں یارو ہمیں کج جو سمجھے سو خود ولد الحرام الٹا تو جو باتوں میں رکے گا تو یہ جانوں گا کہ سمجھا مرے جان و دل کے مالک نے مرا کلام الٹا فقط اس لفافہ پر ہے کہ خط آشنا کو پہنچے تو لکھا ہے اس نے انشاؔ یہ ترا ہی نام الٹا
انشاء اللہ خان انشاء

انشاء اللہ خان انشاء

View profile

سید انشاء اللہ خان انشاء (پیدائش: دسمبر 1752ء— وفات: 19 مئی 1817ء) میر ماشااللہ خان کے بیٹے تھے۔ جو ایک ماہر طبیب تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے۔ انشاءکے دادا سید نوراللہ خاں نجف میں طبابت کرتے تھے کہ بادشاہ دہلی فرخ سیئر نے انھیں اپنے علاج کے لیے ہندوستان کا بُلاوا بھیجا۔ وہ اپنے فرزند میر ماشاء اللہ خاں کے ہم راہ ہندوستان آئے اور بادشاہ کا علاج کیا۔ صحت یابی کے بعد بادشاہ نے انھیں خوب نوازا۔ چناں چہ وہ یہیں کے ہو رہے۔ ان کے فرزند میر ماشاء اللہ خاں جوانی میں مرشد آباد چلے گئے تھے وہیں انھوں نے دو شادیاں کیں، انشاء اللہ خاں ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔ مغلیہ عہد میں ہندوستان تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی رکاب میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کو زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر مرشد آباد چلے گئے۔ جہاں 1756ء انشاء پیدا ہوئے۔ انشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل،ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اوراردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔ یہی نہیں بلکہ انشاء پہلے ہندوستانی ہیں جنھوں نے دریائے لطافت کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پرروشنی ڈالی۔ انشاء نے 1817ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR