Skip to content
انشاء اللہ خان انشاء انشاء اللہ خان انشاء

اک پھریری جو ترا خاک بسر لیتا ہے

اک پھریری جو ترا خاک بسر لیتا ہے تھام جبریل امیں اپنا جگر لیتا ہے ساتھ اپنے کوئی اسباب سفر لیتا ہے تو فقیر اس گھڑی سر زانو پہ دھر لیتا ہے چھیڑ چھاڑ اپنے اڑا کون سکے اے قبلہ برق سے دام کوئی مشت شرر لیتا ہے دیکھیے کیا ہو چلے جاؤ میاں اپنی راہ کون یاں ہم سے غریبوں کی خبر لیتا ہے باغباں کا یہ نہیں جرم نصیب اپنے کہ وہ چھانٹ کر سب میں پکڑ میری کمر لیتا ہے کوئی سرکار جنوں کی نہیں لازم نائب کام جتنے ہیں وہ سب آپ ہی کر لیتا ہے کہہ لیے کیوں نہ ہو سبزے کہ سخن میرا سیکھ وایۂ ابر بہاری کے ہنر لیتا ہے سینہ نخل سے آتی ہے ابل دودھ کی دھار کھینچ اس کا جو کوئی طفل تبر لیتا ہے ہووے پرلوک اودےبھان تو لالہ گھنشام ان کے پھکنے کے لیے مول اگر لیتا ہے نونہالان چمن کو ہو بھلا کیوں کر چین توڑ گل ان کے کوئی کوئی ثمر لیتا ہے ان کی قازیں بھی ترانہ یہ سنا جاتی ہیں کہ تبر لیتا تبر لیتا تبر لیتا ہے اس زمیں میں وہ ہے اک باغ لگا اے انشاؔ جو کہ طوبیٰ کی بھی چوٹی کو کتر لیتا ہے
انشاء اللہ خان انشاء

انشاء اللہ خان انشاء

View profile

سید انشاء اللہ خان انشاء (پیدائش: دسمبر 1752ء— وفات: 19 مئی 1817ء) میر ماشااللہ خان کے بیٹے تھے۔ جو ایک ماہر طبیب تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے۔ انشاءکے دادا سید نوراللہ خاں نجف میں طبابت کرتے تھے کہ بادشاہ دہلی فرخ سیئر نے انھیں اپنے علاج کے لیے ہندوستان کا بُلاوا بھیجا۔ وہ اپنے فرزند میر ماشاء اللہ خاں کے ہم راہ ہندوستان آئے اور بادشاہ کا علاج کیا۔ صحت یابی کے بعد بادشاہ نے انھیں خوب نوازا۔ چناں چہ وہ یہیں کے ہو رہے۔ ان کے فرزند میر ماشاء اللہ خاں جوانی میں مرشد آباد چلے گئے تھے وہیں انھوں نے دو شادیاں کیں، انشاء اللہ خاں ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔ مغلیہ عہد میں ہندوستان تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی رکاب میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کو زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر مرشد آباد چلے گئے۔ جہاں 1756ء انشاء پیدا ہوئے۔ انشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل،ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اوراردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔ یہی نہیں بلکہ انشاء پہلے ہندوستانی ہیں جنھوں نے دریائے لطافت کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پرروشنی ڈالی۔ انشاء نے 1817ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR